جوڈیشل کمیشن میں ایجنسیزکےنہیں،حاضرججزہوتےہیں،اسحاق ڈار

Nov 30, -0001

ویب ایڈیٹر:


اسلام آباد  :  وزیر  خزانہ اسحاق ڈار نے عمران خان کی تجاويز کا جواب دے ديا ہے، اسلام آباد ميں نيوز کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جوڈيشل کميشن ميں ایجنسیوں کے لوگ نہیں ہوتے بلکہ حاضرسروس جج صاحبان ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں جنگل کا قانون یا بادشاہت نہیں، حکومت آئین سے ہٹ کر جوڈیشل کمیشن نہیں بناسکتی۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید اور وفاقی وزیر زاہد حامد  کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اسحاق ڈار نے عمران خان کی تجویز کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل کمیشن میں ایجنسیوں کے لوگ نہیں، بلکہ ججز ہوتے ہیں، آئی ایس آئی اور ایم آئی کی شمولیت کا مطالبہ حیران کن ہے، کمیشن کی تشکیل کیلئے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھا تھا۔

انہوں نے کہا کہ کہی ایسا نہیں ہوتا کہ ہر چیز میں اپنی ہی رائے کو مقدم رکھا جائے، یعنی چیف جسٹس بھی آپ بننے کی کوشش کریں اور ملک کے وزیراعظم بھی، انہوں نے کہا کہ ملک میں جنگل کا قانون ہے نہ کسی کی بادشاہت، عدالتی کمیشن کیلئے ججوں کے نام بھی عدالت ہی دیتی ہے، حکومت چاہے بھی تو اس قسم کا کمیشن نہیں بن سکتا۔

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ آئین سے ہٹ کر کوئی کمیشن تشکیل نہیں دیا جاسکتا، عمران خان نے اپنے نمائندوں کو مذاکرات سے روک دیا تھا، لگتا ہے کہ عمران خان جے آئی ٹی بنوانا چاہتے ہیں، مذاکرات سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے تحریک انصاف کیساتھ مذاکرات ختم نہیں کیے، ہر مثبت اور قابل عمل تجویز قبول کرنے کے لیے تیار ہیں،یہ بات سب جانتے ہیں کہ دھرنوں سے پاکستان کی معیشت کو بہت نقصان ہوا۔

اسحاق داڑ کا کہنا تھا کہ عدلیہ سمیت تمام اداروں کا احترام کرنا چاہیے، چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کیلئے آئین میں طریقہ کار موجود ہے، ہمیں معلوم تو ہو کہ عمران خان بھی بات کرنا چاہتے ہیں، کانفرنس سے خطاب میں پرویز رشید نے کہا کہ عمران خان نے مئی میں جسٹس تصدق جیلانی کی تعریف کی، گزشتہ رات تصدق جیلانی پرعدم اعتماد کا اظہار کر دیا، پی ٹی آئی کے استعفے قبول کرنے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے پرویز رشید نے کہا کہ مجھے استعفے قبول کرنا ہوتے تو پہلے دن ہی کرلیتا، استعفے قبول کرنا اسپیکر کا ٹیکنیکل مسئلہ ہے۔ سماء

میں

paypal

etisalat

Tabool ads will show in this div