تھر میں ایک اور بچہ دم توڑ گیا، جاںبحق بچوں کی تعداد سڑسٹھ ہوگئی

تھرپارکر: تھرمیں قحط سالی کے سبب مزید ایک بچہ دم توڑ گیا۔ سندھ کے وڈے سائیں کے دعوے اور اجلاس ناکام نظرآرہے ہیں۔ چوالیس روز میں جاںبحق بچوں کی تعداد سڑسٹھ ہوگئی۔


سندھ کابینہ کا مٹھی میں اجلاس، سائیں کی 'سب اچھا ہے' کی تکرار لیکن تھر واسیوں کی مشکلات ہیں کہ حل ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔


مٹھی سول اسپتال میں آج بھی ایک ماہ کا بچہ دم توڑ گیا۔ چوالیس روزمیں جاںبحق بچوں کی تعداد سڑسٹھ ہوگئی۔


سائیں کہتے ہیں کہ اسپتال کی حالت بہتر ہے، بچے بھوک سے نہیں غربت سے مرتے ہیں۔


مٹھی سول اسپتال میں اس وقت بھی چھپن بچے زیر علاج ہیں۔ چار بچوں کی حالت تشویشناک ہے۔


چھاچرو میں سترہ، ننگرپارکر میں نو اسلام کوٹ میں چھ بچے زیر علاج ہیں ۔


دس ماہ کے دوران ضلع بھر میں چار سو اٹھاسی بچے جاںبحق ہوچکے ہیں جبکہ دو سو ستانوے بچوں کو سندھ کے دیگر شہروں میں ریفر کیا گیا۔ سماء

ساؤتھ ایشیاء

aviation

Tabool ads will show in this div