سیاست میں تحمل کہاں ہے

Pti Imran Arrive New Khewra 24-08

پاکستان تحريک انصاف کے چيرمين عمران خان کي طرف سے وزير اعظم نواز شريف کي رہائش گاہ سے چند کلوميٹر دور احتجاجي جلسہ کے اعلان کے بعد جيسے پاکستان بھر ميں جنگ کا  طبل بج چکا ہے۔ گوجرانوالہ اور لاہور ميں نون ليگ کے ڈنڈا بردار جتھے بن چکے ہيں۔ جواباً تحريک انصاف نے بلا برداروں کو مقابلے ميں بھيجنے کے لئے کمر کس لی ہے۔ گويا احتجاج کرنے کے جمہوري حق کو متنازعہ بنانے کے لئے بلا تفریق جماعت ہر کوئی سرگرم ہوگیا ہے اور احتجاجی مظاہرے کو پر تشدد بنانے کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑی جارہی۔ کاش کسی نے 17 جون 2014 کو ہونے والے ماڈل ٹاؤن والے واقعے سے ہی سبق سیکھ لیا ہوتا۔

عمران خان لاہور سے 20 کلوميٹر دور واقع اڈہ پلاٹ ميں جلسہ کرنے والے پہلے پاکستاني سياست دان نہيں ہوں گے۔تقريبا ً 20 سال پہلے جماعت اسلامي کے تيسرے امير مرحوم قاضي حسين احمد  نے بھي اڈہ پلاٹ ميں جلسہ کيا تھا۔ انہوں نے وہاں سے پانچ کلوميٹر دور رائے ونڈ کے محلات کي طرف منہ کرکے شريف برادران کو للکارا بھي تھا۔ان دنوں  جماعت اسلامي کا يہ نعرہ بھي بڑا زبان زدعام تھا کہ ظالمو قاضي آرہا ہے۔ ليکن کسي نے نہ تو جماعت اسلامي کے جلسے کو روکنے کي کوشش کي اور نہ ہي کسی ڈنڈا بردار لشکر نے حملہ کيا۔ مگر دو دہائي کے بعد صورت حال کلي طور پر مختلف ہے۔ اڈہ پلاٹ احتجاج کے موضوع پر ٹي وي اسکرينوں پر دونوں جماعتوں کے رہنما ايک دوسرے کو للکارتے نظر آتے ہيں۔ کبھي ٹانگيں توڑنے کي باتيں ہوتي ہيں تو کبھي منہ توڑنے کي۔ گويا يہ کوئي سياسي تنازعہ نہيں بلکہ دو دشمن قوموں کي جنگ جاري ہے۔

INT UKRAIN PROTESTS PKG IRSHAD 21-02

حزب اقتدار پر تنقید دنیا بھر میں ہوتی ہےاورحزب مخالف کي جماعتيں اہل اقتدار کے خلاف مظاہرے بھی کرتي ہيں۔ کئي مرتبہ  برطانيہ ميں 10 ڈاؤننگ اسٹريٹ پر وزيراعظم کے خلاف مظاہرے ہوتے ہيں ليکن وہاں پرايسی دھماچوکڑي نظر نہيں آتي۔ مظاہرین چند درجن ہی  ہوتے ہیں اور حکومتی رد عمل بھی پرتشدد نہیں ہوتا۔ آخر بات بات پر برطانيہ اور يورپي جمہوريت کي باتيں کرنے والے خود جمہوري رويے کا اظہار کيوں نہيں کرتے۔ آخر ايسي کيا بات ہے کہ برطانوي طرزجمہوریت  لندن ميں تو کامياب ہے ليکن لاہور، کراچي اور اسلام آباد ميں ناکام ہو جاتا ہے۔ تحمل اور بردباري جمہوريت کے ماتھے کا جھومر سمجھے جاتے ہيں مگر پاکستاني جمہوريت کی دلہن  کا ماتھا اکثر وبيشتر اس زيور سے محروم کيوں ہوجاتا ہے۔اس کي بنيادي وجہ صرف اور صرف سياستدانوں کا ہر صورت ميں اقتدار کے حصول کي خواہش ہے۔ اسي اقتدار کي بے جا خواہش کي وجہ سے ملک کا آدھا حصہ الگ ہوگيا تھا۔ مگر اس سانحے کے 45 سال کے بعد بھي يہي نظر آتا ہے کہ قوم اور اس کے رہنماؤں نے شعوري يا غيرشعوري طور پر جمہوري رويے اپنانے کي کوشش نہيں کي۔ ان حالات ميں جب ملک کے مشرقي اور مغربي سرحدوں پر شديد کشيدگي ہے اور ملک کے کئی علاقوں میں دہشت گردی کا دوردورہ ہے،

انتشاري سياست کي وجہ سے کشمير سميت اہم معاملات پر قوم کے مشترکہ موقف کو سامنے لانا مشکل ہوگيا ہے۔ اگر حکومت اور رياستي اداروں کي طرف سے مشترکہ موقف کي بات بھي کي جائے گي تو سياست ميں نظر آنے والي افراتفري اس کي نفي کرے گي۔ وقت کي بس ايک ہي ضرورت ہے کہ اگر پاکستان کو جمہوري ملک کے طور پر عالمي برادري ميں متعارف کرانا ہے تو جمہوريت کی روح کو بھي اپنانا ہوگا۔ اگر ايسا نہيں ہوا تو ہم نہ صرف اپنے ساتھ مذاق کريں گے بلکہ بين الاقوامي برادري ميں بھي عزت نہيں مل سکے گي۔

IMRAN KHAN

RAIWAND

Tabool ads will show in this div