رائےونڈ مارچ کےپوشیدہ عزائم کیاہوسکتےہیں

Sep 22, 2016

IK ON RAIWAND SOT NEW 16-09

پاکستان تحریک انصاف نے پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لئے مختلف ہتھکنڈے آزمانے  کے بعد اب رائیونڈ مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جس کی تیاری 24 ستمبر سے شروع کی جائیگی اور 30 ستمبر کو رائیونڈ کی طرف مارچ ہوگا جہاں شریف خاندان کی رہائش گاہیں جاتی عمرا میں قائم ہیں۔

عمران خان کی طرف سے یہ انتہائی قدم ایسے موقع پر اٹھایا جارہا ہے۔ جب چیف آف آرمی اسٹاف کی مدّتِ ملازمت مکمل ہونے کو ہے اور امید کی جارہی ہے کہ وزیر اعظم نوازشریف جلد ہی نئے چیف آف آرمی اسٹاف کا اعلان کردیں گے۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، جنرل راحیل شریف کی مدّتِ ملازمت کے آخری دنوں میں ایسی صورتحال پیدا کرنا چاہتے ہیں جس میں جنرل راحیل حالات کو دیکھتے ہوئےمداخلت کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ یادوسرے الفاظ میں عمران خان چاہتے ہیں کہ جنرل راحیل شریف جاتے جاتےشریف حکومت کوبھی ساتھ لے جائیں۔

nawaz raheel

دوسری طرف وزیر اعظم بھی موجودہ صورتحال میں چیف آف آرمی اسٹاف کا چناؤ کرتے وقت انتہائی محتاط ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ عمران خان کے پیداکردہ حالات میں وہ 1999 والی غلطی دوبارہ کربیٹھیں جس کا خمیازہ انھیں ساری عمر بھگتنا پڑے۔عمران خان کی طرف سے 24 ستمبر کی تاریخ ممکنہ طور پر وزیر اعظم کے دورہ امریکہ کی وجہ سے تبدیل کی گئی اور 30 ستمبر کی تاریخ کا چناؤ یہی سوچ کرکیا گیا کہ ویک اینڈ ہونےکی وجہ سے وزیراعظم رائیونڈ میں قائم اپنی ذاتی رہائشگاہ میں موجود ہونگے۔

تحریک انصاف کی حکمت عملی سے لگتا ہے کہ عمران خان ایسے حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں جس میں تحریک انصاف کےکارکنان کا ٹکراؤنواز لیگ کےکارکنان اور سیکیورٹی اداروں سےہواورتحریک انصاف کے کارکنان جمہوریت میں حاصل احتجاج کےحق کواستعمال کرتےہوئے وزیر اعظم کی رہائش گاہ پہنچنے کی کوشیش کریں۔ جس کے نتیجے میں ٹکراؤ ہو اور حالات خراب کئے جاسکیں۔عمران خان کو یاد رکھنا چاہیے کہ کسی بھی جماعت کے کارکنان کو کوئی بھی پارٹی لیڈر ریمورٹ کنٹرول سے کنٹرول نہیں کرسکتا۔ ممکن ہے کہ عمران خان کا ارادہ صرف رائیونڈ تک مارچ کا ہی ہو۔ ممکن ہے کہ کارکنان رائیونڈ تک عمران خان کی کپتانی میں جائیں۔ مگر رائیونڈ پہنچ کر مشتعل کارکنان بالکل ویسے ہی کنٹرول سے باہر ہوسکتے ہیں، جیسے اسلام آباد دھرنے کے دوران پی ٹی وی کی عمارت پر حملہ کرتے وقت ہوگئے تھے۔

nawaz shahbaz

بنیادی طور پر عمران خان کا ایجنڈا لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں 17 جون 2014 کو پیش آنے والے سانحے کو دھرنا ہے۔ جب منہاج القرآن اور سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 14 افراد ہلاک ہوئے۔ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق عمران خان کے سیاسی کزن ڈاکٹر طاہرالقادری نے 30 ستمبر کوہونے والے مارچ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کی وجہ حکومت کی طرف سے منہاج القرآن پر لگائے جانے والہ پابندی کی اطلاعات ہیں، جس کی وجہ سے ڈاکٹر طاہرالقادری لندن کے دورے پر روانہ ہوچکے ہیں۔

ڈاکٹر طاہر القادری کی طرف سے عمران خان کا ساتھ نہ دینے پر تحریک انصاف کے رہنما اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید پشیمانی کا شکار ہیں اور شیخ رشید پاکستان مسلم لیگ کے چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الہی کے ذریعے ڈاکٹر طاہر القادری کو مارچ میں شرکت کےلئے راضی کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔عمران خان اور شیخ رشید کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ دونوں باخوبی جانتے ہیں کہ تحریک انصاف کے کارکنان کبھی بھی قانون کو ہاتھ میں نہیں لیں گے جبکہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے مرید اپنے روحانی پیشوا کی ایک پُکار پر لبیک کہتے ہوئے کسی  پر بھی حملہ کرسکتے ہیں۔ لہذا ڈاکٹر طاہرالقادری کی سپورٹ کے بغیر عمران خان اور شیخ رشید اپنے پوشیدہ عزائم پورے نہیں کرسکیں گے۔

Tahir Ul Qadri JKT Sheikh Rasheed Meeting Lhr 31-08

جمہوریت میں کسی بھی شخص کو احتجاج کا حق حاصل ہےمگر ایسا احتجاج جس کے عزائم خطرناک ہوں، یقیناً جمہوریت کے لئے بھی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ دوسرا اگر آج عمران خان، رائیونڈمارچ کرتے ہیں تو ممکن ہے کہ کل کو اگر وہ وزیر اعظم بنتے ہیں  تو پھر کوئی بھی دوسری جماعت بنی گالہ مارچ کا اعلان کرسکتی ہے۔ لہذا جمہوریت میں ایسی مثال قائم کرنا، کسی بھی جمہوری معاشرے میں مناسب نہیں۔

IMRAN KHAN

tahir ul qadri

RAIWAND

Tabool ads will show in this div