نقل مکانی کرنیوالوں کا زیادہ بوجھ ترقی یافتہ ممالک اٹھا رہے

Sep 19, 2016

PM ON Afghan Refugee SOT 19-09

[video width="640" height="360" mp4="http://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2016/09/PM-ON-Afghan-Refugee-SOT-19-09.mp4"][/video]

نیویارک: وزیراعظم محمد نواز شریف نے بڑے پیمانے پر جاری نقل مکانی اور جبری ہجرت کے بنیادی اسباب دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تا کہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ مجبوری کی حالت میں اپنا گھر بار چھوڑنے والے افراد نفرت انگیز رویوں اور سیاسی مصلحت کا شکار نہ ہوں، بین الاقوامی برادری کو اب بڑے پیمانے پر ہجرت اور نقل مکانی کے بارے میں ایک جامع حکمت عملی مرتب کرنا ہوگی۔

وزیراعظم نواز شریف نے یہ بات پیر کو مہاجرین اور نقل مکانی کرنے والوں کے لئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی پہلی اعلی سطحی سربراہ کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کہی۔

بھارت ریاستی سطح پر بربریت کررہاہے،شریف کاکیری سےشکوہ

وزیراعظم نے کہا کہ اس مسئلے کی بنیادی وجوہات کا حل تلاش کیے بغیر اس بحران کا پائیدار حل ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک نازک موقع پر اجلاس کر رہے ہیں جب بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنے گھروں سے نقل مکانی کی ہے اور انسانی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نقل مکانی نہ تو رضا کارانہ ہے اور نہ ہی منظم ہے، لوگ تنازعے، جنگ یا غربت کے مایوس کن حالات کے باعث اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں، یہ بے یارو مددگار لوگ ہمدردی اور شفقت آمیز رویئے کے حق دار ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک بڑے پیمانے پر عالمی انسانی نقل مکانی کا بوجھ اٹھانے میں پیش پیش رہے ہیں، ان میں سے نقل مکانی کی طویل حالات نے میزبان ممالک اور مقامی آبادیوں کے لئے پیچیدہ سیاسی، سماجی، اقتصادی، سکیورٹی اور ماحولیاتی چیلنجز پیدا کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چار دہائیوں سے پاکستان نے لاکھوں مہاجرین کی میزبانی کی ہے، یہ دنیا میں سب سے بڑی طویل ترین مہاجرین کی صورتحال ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اپنے محدود وسائل کے باوجود پاکستان کے عوام نے اپنے افغان بہن بھائیوں کے لئے اپنے دل کھلے رکھے، اسوقت افغان مہاجرین کی تعداد 25لاکھ سے زیادہ ہے، گرچہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے مالی معاونت میں کمی آئی لیکن پاکستان کی میزبانی میں کوئی کمی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام افغان مہاجرین کی باعزت طریقے سے اپنے وطن واپسی کی حمایت کرتا ہے۔

کشمیر میں بھارتی مظالم، سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک کو خط

وزیراعظم نے کہا کہ ہم اس مقصد کے حصول کے لئے افغان بھائیوں اور بین الاقوامی شراکت داروں کی طرف سے سازگار ماحول پیدا کرنے میں سرگرم حمایت کی توقع رکھتے ہیں۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری آگے بڑھے گی اور بروقت انداز میں یو این ایچ سی آر کو ضروری وسائل فراہم کریگی تا کہ افغان مہاجرین کی پائیدار بنیادوں پر واپسی میں مدد ملے۔

مہاجرین اور نقل مکانی کرنے والوں کے لئے نیویارک اعلامیہ کی منظوری کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایسا کرتے ہوئے ہم دنیا بھر میں مہاجرین اور نقل مکانی کرنے والی آبادیوں کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کر رہے ہیں، اب چیلنج اس اچھے کام کو حقیقت کا روپ دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اب بڑے پیمانے پرہجرت اور نقل مکانی کے بارے میں ایک جامع حکمت عملی مرتب کرنا ہوگی جو بوجھ کو منصفانہ اور مساویانہ انداز میں ملکر اٹھانے پر مبنی ہو جو اس بات کو یقینی بنائے کہ نقل مکانی کرنے والے افراد نفرت انگیز رویئے اور سیاسی مصلحت کا شکار نہ ہوں اور یہ ایک ایسی حکمت عملی ہو جو قانونی ہجرت کے لئے وسیع تر راہیں فراہم کرے اور صورتحال کا ہمہ گیر جائزہ لیتی ہو۔ اعلی سطح کے سربراہ اجلاس میں مختلف ممالک کے سربراہان مملکت اور نمائندوں نے شرکت کی۔ سماء/اے پی پی

PM Nawaz Sharif

UNGA

Afghan Refugees

Tabool ads will show in this div