کیا عمران خان کی حکمت عملی درست ہے؟

Sep 19, 2016

Imran Khan Isb Pkg 04-09

ڈرامہ سیریز گیسٹ ہاؤس اسلام آباد ٹی وی سینٹر کا مقبول ڈرامہ تھا، جو 90ء کی دہائی کے وسط تک پیش کیا جاتا رہا، اس وقت لاہور اور کراچی ٹی وی سینٹرز سے ایک سے ایک ڈرامہ پیش کیا جاتا تھا اور اصل مقابلہ کراچی اور لاہور کے درمیان ہی ہوتا تھا مگر اسلام آباد کا یہ ڈرامہ گیسٹ ہاؤس گنتی کے ان چند ڈراموں میں سے تھا جو اسلام آباد سینٹر کے مقبول ڈراموں میں  سمجھاجاتا ہے، یہ مزاح سے بھرپور ڈامہ ہر بار ایک نئی کہانی سامنے لیکر آتا تھا مگر اس کے 5 کردار مستقل تھے جو ایک گیسٹ ہاؤس کی انتظامیہ کے کردار میں سامنے آئے تھے، خالد شیشم، ثروت عتیق، مراد علی اور نوید ملک پر مشتمل تھے مگر پانچواں کردار جو سب سے زیادہ مقبول ہوا بلکہ ڈرامے کی کامیابی میں اگر اس کردار کو مرکزی حیثیت دی جائے تو بے جا نہ ہوگا، وہ کردار جان ریمبو کا تھا جن کا اصل نام افضل خان تھا مگر وہ آج تک جان ریمبو ہی کے نام سے جانے جاتے ہیں، جنہوں نے بعد میں کامیاب فلمیں بھی کیں۔

1b

ڈرامہ گیسٹ ہاؤس اپنے آغاز سے ہی مقبول ہونا شروع ہوگیا تھا اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس ڈرامے نے کراچی اور لاہور کے ڈراموں کو مقبولیت میں پیچھے چھوڑ دیا مگر جب یہ ڈرامہ اپنے تیسرے سال میں داخل ہوا تو اس کی مقبولیت میں کمی آنا شروع ہوگئی، اس کی وجوہات میں سے بڑی وجہ کہانی یا اسکرپٹ میں یکسانیت تھی، اس یکسانیت کی وجہ سے ڈرامے کے کردار اور ایکٹنگ کا شکار ہونا شروع ہوگئے، قہقوں اور ہنسی مذاق کی جگہ اکتاہٹ اور بوریت نے لے لی، دیکھنے والوں نے یہ کہنا  شروع کر دیا کہ اب اس ڈرامے کو ختم کر دینا چاہئے مگر اسلام آباد سینٹر جس  نے اکا دکا کامیاب ڈرامے دیئے نے یہ ڈرامہ جاری رکھا اور چوتھے سال میں جب کامیابی اور عروج کی جگہ زوال اور عدم دلچسپی نے لے لی تو یہ ڈرامہ اپنے اختتام کو پہنچا۔

3394Imran-Khan-PTI-Haripur-Jalsa

یہ ڈرامہ اس لئے یاد آگیا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی 30 اکتوبر 2011ء کو لاہور میں تقریر ایک عروج تھی، اس دن مینار پاکستان کا بڑا میدان لوگوں سے بھرا ہوا تھا اور پی ٹی آئی سربراہ نے اپنی تقریر سے لوگوں کے دل موہ لئے، اس کے بعد دسمبر 2011ء میں کراچی میں مزار قائد پر جلسہ کیا گیا وہ بھی کامیاب ترین جلسہ تھا، اس میں بھی عمران خان نے یادگار تقریر کی، اس کے بعد الیکشن مہم کے دوران بھی بڑے جلسے کئے اور بڑی یادگار تقاریر کی گئیں، عمران خان نے دن میں 4، 4، تقریریں، پریس ٹاک اور ٹاک شوز کرنے شروع کردئیے، لوگوں کو پہلے سے اندازہ ہونا شروع ہوگیا کہ آگے عمران خان کیا کہیں گے پھر 2014ء کے دھرنے میں دن میں پریس ٹاک اور رات کو تقریر عمران خان کا معمول بن گیا، ہر ٹاک میں اور تقریر میں رٹے رٹائے جملے ہوتے، وہی یکسانیت سے بھرپور تقریر اور اوپر سے تمام چینلز سے تمام تقریریں پوری پوری دکھانا شروع کر دیں۔

Imran Khan Speech Shadra 03-09

ظاہراً تو یہ بڑی کامیابی تھی کہ ٹی وی چینلز عمران خان کو بھرپور کوریج دے رہے ہیں مگر جلسوں میں موجود لوگوں کے ساتھ ساتھ گھروں میں دیکھنے اور سننے والے بھی اکتاہٹ کا شکار شروع ہوگئے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ رواں سال 14 اگست کی رات کو اسلام آباد کے جلسے میں لوگ گزشتہ جلسوں کے مقابلے میں بہت ہی کم نظر آئے، یہی نتیجہ 3 ستمبر کو ہونیوالی لاہور ریلی کا نکلا اور 6 ستمبر کو نشتر پارک کراچی کے جلسے نے تو سب کچھ آشکار کر دیا۔

PTI Activities Isb Pkg 18-09

اسلام آباد کا ڈی چوک لوگوں سے کھچا کھچ بھرنے والے عمران خان کو فیصل مسجد کے باہر لوگوں کے نہ آنے پر احساس ہونا چاہئے تھا کہ مینار پاکستان کا بڑا میدان لوگوں کے جوش جذبے سے سرشار کرنیوالے عمران خان کو چیئرنگ کراس میں لوگوں کی عدم شرکت پر احساس ہونا چاہئے تھا، مزار قائد پر ہزاروں لوگ لانے والے عمران خان کو نشتر پارک کا جلسہ دیکھ کر احساس ہونا چاہئے تھا کہ ایسا کیا ہے کہ نتیجہ یہ نکل رہا ہے، اپنی حکمت عملی سے لیکر تقریروں تک کہ کتنی تقریر کرنی ہے، کتنے جلسے کرنے ہیں، ہر تقریر میں کیا بولنا ہے، ہر پریس ٹاک میں کیا بولنا ہے، کہاں خاموش رہنا ہے اور اپنے دائیں بائیں کس کو ساتھ رکھنا ہے، اس کو سوچنے سمجھنے کی ضرورت ہے، ورنہ ڈرامہ سریز گیسٹ ہاؤس کا انجام یاد رکھیں کہ لوگ اکتا کر کہیں آپ کو مسترد نہ کر دیں۔۔

IMRAN KHAN

Election rigging

Panama

Tabool ads will show in this div