سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات رپورٹ سے قبل نظرثانی رپورٹ

اسٹاف رپورٹ

لاہور : سانحہ ماڈل ٹاؤن کی عدالتی تحقيقاتی رپورٹ تو اب تک سامنے نہيں آئی تاہم جوڈيشل کميشن کی فائنڈنگ پر بننے والی نظرثانی کميٹی کی رپورٹ سماء منظر عام پر لے آيا ہے، نظرثانی کميٹی نے عدالتی تحقيقات کو مسترد کرکے پنجاب حکومت کو کلين چٹ دے دی۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن ميں عدالتی کميشن کی رپورٹ تو شائع نہ ہوسکی، پنجاب حکومت کی درخواست پر نظرثانی مکمل ہوگئی، نظرثانی کميٹی نے عدالتی تحقيقات کو مسترد کرتے ہوئے پنجاب حکومت کو کلين چٹ دے دی۔

عدالتی کميشن کہتا ہے کہ ماڈل ٹاؤن آپريشن سے شہباز شريف آگاہ تھے، نظرثانی کميٹی کو اعتراض ہے کہ کميشن نے وزيراعلیٰ کی آگاہی کا ثبوت نہيں ديا، نظرثانی رپورٹ کے مطابق کميشن گولی چلانے کا حکم دينے والے کا تعين کرنے ميں ناکام رہا۔

کميشن کہتا ہے کہ بيریئر ہٹانے کی آڑ ميں منہاج القرآن مرکز پر منصوبے کے تحت حملہ کيا گيا، نظرثانی کميٹی کہتی ہے کہ کميشن نے بيریئر کی پوزيشن کا جائزہ نہيں ليا، حملہ ارادتاً کيا گيا، عدالتی کميشن اس کا ثبوت بھی نہيں دے سکا۔

انٹيلی جنس بيورو نے منہاج القرآن کے اندر سے فائرنگ کی رپورٹ دی، آئی ايس آئی نے بتايا کہ اندر سے فائرنگ نہيں ہوئی، نظرثانی کميٹی کا سوال ہے کہ کميشن کے سربراہ نے رپورٹ مرتب کرتے وقت آئی بی کی رپورٹ کو نظر انداز کيوں کيا۔

عدالتی کميشن نے وزيراعلیٰ، سيکریٹری داخلہ اور توقير شاہ کے بيانات کو متضاد قرار ديا، نظرثانی رپورٹ کے مطابق يہ ضروری نہيں کہ جو حکم جس طرح ملے انہی الفاظ ميں آگے پہنچايا جائے۔

نظرثانی کميٹی کے مطابق عدالتی کميشن نے کرمنل انکوائری کا درجہ مانگ کر اپنے اختيار سے تجاوز کيا، پنجاب حکومت اس رپورٹ کو لاہور ہائی کورٹ ميں پيش کرے گی اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ جب بھی منظر عام پر آئے گی، اس کے ساتھ نظرثانی رپورٹ بھی شائع کی جائے گی۔ سماء

تحقیقات

رپورٹ

screening

Tabool ads will show in this div