صدرنےسینیٹ کااجلاس آج طلب کرلیا،20ویں ترمیم کی منظوری لی جائیگی

اسٹاف رپورٹ
اسلام آباد : صدر آصف علی زرداری نے سینیٹ کا اجلاس آج طلب کیا ہے۔ جس میں بیسویں آئینی ترميم کی منظوری لی جائے گی۔

سينيٹ کا اجلاس آج شام ساڑھے پانچ بجے ہوگا۔ جس ميں بیسويں آئيني ترميم کا بل منظوری کے ليے پيش کيا جائے گا۔


ترجمان ايوان صدر فرحت اللہ بابر کے مطابق صدر زرداری نے سينيٹ کا اجلاس وزير اعظم گيلانی کی ايڈوائس پرطلب کيا ہے


دستور پاکستان میں 20 ویں آئینی ترمیم کا بنیادی مقصد ضمنی انتخابات میں کامیاب ہونے والے سینیٹ ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اٹھائیس معطل ارکان کو تحفظ دینا تھا لیکن اس میں عام انتخابات سے


پہلے نگران حکومت کے اتفاق رائے سے قیام کے علاوہ صدارتی انتخاب اورالیکشن کمیشن کو خودمختار بنانے کے نکات بھی شامل کر دیئے گئے ہیں۔


اس بل کے ذریعے  آئین کے آرٹیکل 214۔ 215 - 216 - 218 - 219 - 224 میں ترامیم کی گئی ہے، دستور کے آرٹیکل 224 میں ترمیم کے مطابق


اگر وزیراعظم ،  وزیراعلی اور متعلقہ قائد حزب اختلاف،  نگران وزیراعظم یا نگران وزیراعلی کی تقرری پر متفق نہ ہوئے


تو قومی اسمبلی کی تحلیل کے 3 دنوں کے اندر انفرادی طور پر نامزدکردہ دو نام اسپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے تشکیل کردہ کمیٹی کو تجویز کریں گے۔

تشکیل کردہ کمیٹی میں حکومتی اور حزب اختلاف کی مساوی نمائندگی ہوگی،کمیٹی نگران وزیراعظم کا فیصلہ تین دن کے اندر کرے گی،


کمیٹی سے فیصلہ نہ ہونے کی صورت میں نام حتمی فیصلے کے لئے الیکشن کمیشن کو بھیجے جائین گے،


عہدے دار وزیراعظم اور عہدے دار وزیراعلی، نگران وزیراعظم اور نگران وزیراعلی کے تقرر تک اپنے عہدے پر فائض رہیں گے،


رخصت ہونے والی کمیٹی قومی اسمبلی یا سینٹ کے 8 اراکین پر مشتمل ہوگی،بل کے مطابق صدر کے انتخاب کے متعلق بھی آئین کے شیڈول دو میں ترامیم کی گئی ہیں، ۔


اب صدر کا الیکشن چیف الیکشن کمشنر کی بجائے الیکشن کمیشن آف پاکستان کرائے گا، جبکہ صدر کے الیکشن کیلئے پارلیمنٹ کا پریذائڈنگ آفیسر کا تقرر چیف الیکشن کمشنر کی بجائے الیشکن کمیشن آف پاکستان کرے گا،


بل کے مطابق چیف الیکشن کمیشن اور رکن الیکشن کمیشن کو ہٹانے کیلئے ججز کو ہٹانے کا طریقہ کار استعمال ہوگا،


الیکشن کمیشن کے رکن کی مدت بھی 5 سال ہوگی، آرٹیکل 216 میں ترمیم کے تحت الیکشن کمشنر اور اراکین دوران سروس اور ریٹائرڈ ہونے کے دو سال بعد تک بھی کو ئی منفعت بخش عہدہ نہیں رکھ سکین گے۔

 اراکین الیکشن کمیشن کا حلف چیف الیکشن کمشنر والا ہوگا جبکہ الیکشن کمیشن کے ارکان کا الیکشن کمشنر حلف لیں گے،


بل میں دستور کے آرٹیکل 224 میں نئی شق کا اضافہ بھی کیا گیا ہے، بل میں دستور کے جدول دوئم اور جدول سوئم میں بھی ترامیم کی گئی ہیں۔توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ سینٹ میں بھی 20ویں ترمیم متفقہ طور پر منظور کرا لی جائے گی۔

سماء

کی

آج

طلب

decade

rajasthan

royals

promise

Tabool ads will show in this div