غداری کیس میں شریک ملزموں کو شامل کیا جائے،خصوصی عدالت نےفیصلہ دیدیا

Nov 30, -0001

ویب ایڈیٹر :

 

اسلام آ باد  :  خصوصی عدالت نے غداری کیس میں سابق صدر  پرویز مشرف کی جانب سے تین  نومبرکی ایمرجنسی کے اقدامات میں دیگر ملزمان کی شمولیت کی درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے حکومت سے نئی درخواست کے ساتھ  پندرہ روز میں ترمیم شدہ  چالان طلب کرلیا ۔

 

 عدالت نے  پرویز مشرف   کی دیگر شریک ملزمان کو  ٹرائل میں شامل کرنے کی  درخواست  پر فیصلہ دیتے ہوئے  سابق وزیراعظم شوکت عزیز، سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور سابق وزیر قانون زاہد حامد کے خلاف  آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی عمل میں لاتے ہوئے دوبارہ درخواست دائر کرنے کا حکم دیا ہے۔

 

 جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے  درخواست پر فیصلہ سنایا۔ عدالت نے  سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے دائر درخواست  کو جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے   سابق وزیراعظم  شوکت عزیز،سابق وزیر قانون زاہدحامد اور سابق   چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو مقدمےمیں شامل کرنےکی ہدایت کردیں۔

 

تین رکنی بینچ نےفیصلہ کثرت رائےسے دیا،تاہم ایک جج جسٹس یاورعلی خان نے اختلافی نوٹ دیا، عدالت نے درخواست سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ تینوں افراد کے خلاف تحقیقات کرکےترمیم شدہ چالان پیش کیاجائے، عدالت نےوفاقی حکومت کوپندرہ روز کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے نئی درخواست دائر کرنےکاحکم دےدیا، عدالت کی جانب سے ریمارکس دیئے گئے کہ وفاقی حکومت ان شخصیات کےنام شامل کرکےچالان دوبارہ پیش کرے۔

 

 واضح رہے کہ غداری کیس میں شریک ملزمان کو شامل کرنے کی سابق صدر  پرویز مشرف کی درخواست منظور کرتے ہوئے خصوصی عدالت نے یہ فیصلہ سنایا،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھاکہ اکیلےسابق صدر مشرف کیخلاف مقدمہ امتیازی سلوک ہےاسےختم کیاجائے ۔سابق صدر مشرف کےسول وفوجی مددگاروں، معاونین کو شریک ملزمان کےطورپرشامل کیاجائے ۔معاونین کوشامل کرکےازسرنومقدمہ دائرکرنےکےاحکامات دیےجائیں ۔ اس سے قبل 31 اکتوبر کو پرویز مشرف کی درخواست پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

 

گزشتہ ہونے والے سماعت میں  سابق صدر مشرف کے وکیل فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سابق صدر  3 نومبر کی ایمرجنسی کے تنہا ذمہ دار نہیں، ان کے ساتھ  اُس وقت کی کابینہ کے اراکین، سرکاری افسران، اراکین پارلیمنٹ اور کور کمانڈرز کو بھی مقدمے کی تفتیس میں شامل کیا جائے۔

 

دوسری جانب استغاثہ نے سابق صدر پیز مشرف کے وکیل کے دلائل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پرویز مشرف نے بطور آرمی چیف ایمرجنسی نافذ کی تھی۔ وکیلِ استغاثہ کا موقف تھا کہ تفتیش کے دوران ایسا کوئی مواد ریکارڈ پر نہیں آیا جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ سابق صدر نے ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے دیگر افراد سے بھی مشورہ کیا تھا یا وزیراعظم کی سمری پر عمل کیا تھا۔ سماء

میں

کو

Obama

holiday

membership

Tabool ads will show in this div