چیف الیکشن کمشنر کی تقرری،عدالت عظمیٰ کا مزید مہلت دینے سے انکار

اسٹاف رپورٹ


اسلام آباد    :   سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کیلئے حکومت کو مزید مہلت دینے سے انکار کر دیا۔ وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کو نوٹس بھجوانے اور قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی واپسی کا انتظامی حکم جاری کرنے کا فیصلہ، یہ معاملہ اب یکم دسمبر کو بلدیاتی الیکشن کیس کے ساتھ زیر بحث آئے گا۔

عدالت عظمی کے تین رکنی بینچ کے روبرو، اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کیلئے مزید مہلت کی درخواست کی اور مؤقف اختیار کیا کہ قائد حزب اختلاف بیمار اور بیرون ملک ہیں، ایک دو دن میں خورشید شاہ کی واپسی پر معاملہ طے کر لیا جائے گا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قائد حزب اختلاف واپس آئیں گے تو وزیراعظم دورے پر چلے جائیں گے۔ خورشید شاہ سے فون پر بھی بات ہوسکتی ہے، خود موجود ہونا ضروری نہیں۔ آپ کو بہت مواقع دیئے، مزید تاخیر نہیں کر سکتے۔ معاملے کو لٹکایا جا رہا ہے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کے اتفاق رائے کیلئے مخلصانہ کوشش کر رہے ہیں۔ جسٹس گلزار نے کہا کہ کیا آپ ریکارڈ پیش کرسکتے ہیں کہ کیا مخلصانہ کوششیں ہوئیں۔

عدالت نے حکومت کو مزید مہلت دینے سے انکار کر دیا اور قرار دیا کہ وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کو نوٹس جاری کیا جائے گا۔ یکم دسمبر کو بلدیاتی الیکشن کیس میں یہ معاملہ بھی زیر بحث آئے گا۔ اس دوران قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کو واپس بلانے کا انتظامی حکم جاری کیا جائے گا۔ سماء

کی

کا

چیف

سے

hezbollah

street

hostage

Tabool ads will show in this div