میمو گیٹ اسکینڈل سماعت،حکومتی پریشانیوں میں اضافہ،وزیراعظم مطمئن

اسٹاف رپورٹ
اسلام آباد : سپریم کورٹ نے میمو کیس میں حسین حقانی کے بیرون ملک جانے پرپابندی لگادی  اور صدر اورآرمی چیف سمیت تمام فریقوین کو طلب کرلیا۔ مقدمے کی سماعت سے حکومت کی پریشانیوں میں اضافہ ہوگیا ہے تاہم وزیراعظم پرامید ہے کہ فوجی بغاوت ہوگی اورنہ عدلیہ نظام کو لپیٹے گی۔
 
ميمواسکينڈل پرایوان صدر میں صدر اور وزیراعظم کی اہم ملاقات ہوئی ہے جب کہ صدر زرداری نے پارٹی رہنماؤں سے بھی مشاورت کی ہے۔


دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں نیٹو حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزيراعظم پراميد ہيں کہ فوجی بغاوت ہوگی اورنہ عدلیہ نظام کو لپیٹے گی۔

سپریم کورٹ میں میمو کیس کی سماعت کے بعد میاں نوازشریف تو میڈیا سے بات کئے بغیر چلے گئے لیکن ان کی پارٹی کے رہنماؤں نے عدالت عظمیٰ کے اقدام کو تاریخی قراردیا اور کہا کہ سچ سامنے آکر رہے گا۔


کیس کی سماعت کے بارے میں پیپلزپارٹی کے رہنما بابراعوان نے اسلام آباد میں کہا کہ عدالت میں وفاق کا موقف نہیں سنا گیا ۔ انھوں نے نواز شریف سے سوال کیا کہ آخر وہ کون سا کھیل کھیلنے کی تیاری کررہے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ صدر زرداری بھاگنے والے نہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ میمواسکینڈل اوراس کے بعد نیٹو حملے میں پاکستانی سیکیورٹی اہل کاروں کی شہادت ایسے واقعات ہیں جو حکومت کیلئے اندرونی اور بیرونی سطح پر پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں اور ان سے نبرد آزما ہونے کیلئے سیاسی بصیرت اور اپوزیشن سے بہتر روابط کی ضرورت ہے۔ سماء

میں

wimbledon

اسکینڈل

services

grab

Tabool ads will show in this div