جیسی عوام، ویسے حکمران

Sep 11, 2016

1d

۔۔۔۔۔**  تحریر : نوید نسیم  **۔۔۔۔۔

یہ حقیقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ہم پر حکمرانی کرنیوالے کرپٹ ہیں، شریفوں کے نام پانامہ لیکس کے ذریعے آشکار ہوچکے ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کی پھوپھوں نے تو لاڑکانہ جیسے شہر میں اربوں لگا کر عوام کو یہ خواہش کرنے پر مجبور کردیا ہے کہ کاش وہ بھی سندھ کا خوش قسمت علاقہ دیکھ سکیں، جہاں ترقیاتی منصوبوں پر 90 ارب لگائے گئے۔

موجودہ حالات میں لگتا ہے کہ صرف عمران خان وہ اکلوتے سیاستدان ہیں، جن کا نام کرپشن کے حوالے سے نہیں لیا جاتا اور شاید اس کی وجہ ہے کہ چونکہ اب تک عمران خان کو حکومت کرنے کا موقع نہیں ملا، اس لئے ان پر ایسا کوئی الزام عائد نہیں کیا جاسکتا۔ عمران خان کا نام بھی پانامہ لیکس میں آنے کے باوجود وہ اب بھی نومولود بچے کی طرح پاک ہیں، کیا ہوا اگر ان کے دائیں اور بائیں کھڑے ہونیوالے مشکوک ہیں، جماعت کا کپتان تو کرپٹ نہیں۔

1c

شریف خاندان کے نام پانامہ لیکس میں آنے کے بعد سے عمران خان شریف خاندان کیخلاف تحقیقات کروانے کیلئے بضد ہیں اور اسی لئے تحریک انصاف نے تحریک احتساب شروع کر رکھی ہے، جس کا آغاز خیبر پختونخوا سے ہوا اور پھر لاہور میں شاہدرہ سے چیئرنگ کراس تک ریلی نکالی گئیں۔

سوال یہ ہے کہ شریف خاندان کیخلاف تحقیقات کروانے کیلئے عمران خان کا یہ طریقہ کار جائز ہے؟۔ کیا عمران خان اس تحریک کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکیں گے؟۔

1a

اس حقیقت میں بھی کوئی شک نہیں کہ عمران خان نے اس جارحانہ اندازِ احتجاج اپنانے سے پہلے تمام دروازوں پر دستک دی، مشترکہ اپوزیشن کے ذریعے حکومت کے ساتھ تحقیقات کیلئے ٹی او آرز کے تعین کیلئے مذاکرات بھی کئے گئے، الیکشن کمیشن اور قومی اسمبلی میں ریفرنسز بھی دائر کئے گئے، جو دونوں ہی مسترد کردیئے گئے۔ سپریم کورٹ میں دائر کردہ درخواست بھی خارج کردی گئی۔

ان تمام کوششوں کے بعد عمران خان تحریک احتساب چلانے پر مجبور ہوئے،  مگر پھر سوال یہ ہے کہ کیا اس طریقے سے بھی عمران خان اپنا مقصد حاصل کرپائیں گے؟۔

1b

عمران خان کی تمام کوششوں کو دیکھ کر ثابت ہوتا ہے کہ پاکستانی جمہوریت میں تمام ادارے حکمرانِ وقت کے ہاتھوں مجبور ہیں، جس کی وجہ سے کوئی ادارہ بھی شریف خاندان کیخلاف کارروائی کرنے سے گریزاں ہے اور چونکہ جمہوریت ہے، اس لئے 5 سالوں تک یہ حکومت گھر جانے والی نہیں، لہٰذا شریف خاندان کو مزید  ڈیڑھ سال تک برداشت کرنا پڑے گا اور جب اقتدار ختم ہوگا تو سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی بہن کی طرح شریف خاندان بھی ملک سے کوچ کرجائے گا، پھر ہوتی رہیں تحقیقات اور کرتی رہیں عدالتیں انصاف۔

عمران خان اور ان کے ساتھ تحریک نجات اور تحریک قصاص چلانیوالے اپنے اپنے منجن بیچ رہے ہیں، شیخ رشید اور ڈاکٹر طاہر القادری کو بخوبی اندازہ ہے کہ ان کی تحریکوں میں دم عمران خان کی وجہ سے ہے اور اسی وجہ سے دونوں تحریکیں اسی دن چلائیں گئیں، جس دن عمران خان نے تحریک احتساب کا اعلان کر رکھا تھا۔

1

ایسے حالات میں اسٹیبلشمنٹ بھی جمہوریت کا احترام کرتے ہوئے خاموش ہے اور اپنا سارا دھیان ضرب عضب پر مرکوز کئے ہوئے ہے، وہ جانتی ہے کہ پاکستان کی بہتری کیلئے جمہوریت ہی بہترین طرز حکومت ہے، چنانچہ اسٹیبلشمنٹ چند خاندانوں کے ہاتھوں یرغمال جمہوریت کو پورا موقع فراہم کررہی ہے اور عوام کو اپنے منتخب کردہ حکمرانوں کے ہاتھوں ذلیل ہوتا دیکھ رہی ہے تاکہ اگلی بار عوام ووٹ ڈالتے وقت اپنے ساتھ ہونیوالے جمہوری برتاؤ کو یاد رکھ سکیں۔

عمران خان کی تحریکوں اور احتجاجوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ عوام بھی اب تبدیلی کی خواہش کر کر کے تھک چکے ہیں، تحریک انصاف کے جلسوں اور ریلیوں میں شرکت کرنیوالے لوگوں کی تعداد بھی کم ہوتی جارہی ہے، جس کی وجہ سے عمران خان اب لاہور کے منٹو پارک میں جلسہ نہیں کرتے، عوام یہ جان چکی ہے کہ جمہوری نظام حکومت میں حکمران خاندان گاؤں کے چوہدری کی طرح قانون کی پہنچ سے دور ہوتا ہے۔

اسے عوام کی بدقسمتی کہیں یا پھر ووٹرز کی بے حسی، عوام کی اکثریت ہی اپنے ووٹوں کے ذریعے ان خاندانوں کو چنتی ہے، جو پھر 5 سالوں تک حکمرانی کرتے ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ عمران خان کو سپورٹ کرنے والی جو عوام جلسوں میں آتی ہے، اس سے جلسہ تو کامیاب ہوجاتا ہے مگر الیکشن نہیں جیتا جاسکتا۔ لہٰذا اگر یہ کہا جائے کہ عوام کی اکثریت شریف خاندان کے کرپشن اور بری حکمرانی کے باوجود شریف خاندان سے خوش ہے تو غلط نہیں ہوگا، جیسی عوام، ویسے حکمران۔

Politics

IMRAN KHAN

Tabool ads will show in this div