پیر مظہر الحق کی حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کی مخالفت، متحدہ شدید برہم

ویب ایڈیٹر

کراچی : ایم کیو ایم نے پیر مظہر الحق کی جانب سے حیدرآباد میں یونیورسٹی بنانے کی مخالفت کے بیان پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے، سینیٹر بابر غوری کہتے ہیں نفرتوں اور لسانیت کی سیاست نہ کی جائے، تعصبانہ فیصلے سندھ میں اشتعال پھیلائیں گے، سندھ حکومت اردو بولنے والوں سے حق چھین رہی ہے، نوجوان سڑکوں پر آئے تو ذمہ دار صوبائی حکومت ہوگی۔ حیدر عباس رضوی کا کہنا ہے کہ شہری سندھ کی نوکریاں دیہی سندھ کے لوگوں کو بیچی جاتی ہیں، آئین کے مطابق 40 فیصد نوکریاں سندھ اربن کا حق ہیں۔

پیر مظہر الحق کی جانب سے حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کی مخالفت کا بیان سامنے آنے کے بعد متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا، رابطہ کمیٹی نے ہنگامی پریس کانفرنس کر ڈالی، سینیٹر بابر غوری کا کہنا ہے کہ سندھ کے لوگ حکومت سندھ کو کبھی معاف نہیں کریں گے، سندھ کے شہری علاقوں کی عوام کو حقوق نہیں دیئے جارہے، نفرتوں اور لسانیت کی سیاست نہ کی جائے، تعصبانہ فیصلے سندھ میں اشتعال پھیلارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کیا پیر مظہر الحق کا بیان پیپلز پارٹی کی پالیسی ہے؟، اس بیان سے شدید بے چینی پائی جاتی ہے، شہری آبادی کو حقوق نہ دینا آئین کی خلاف ورزی ہے، ساڈا حق اتھے رکھ کا فیصلہ کرنا ہوگا، عوام کیلئے تعلیم کے مواقع ختم کرنا افسوس کی بات ہے، حیدرآباد کے لوگوں میں غصہ پایا جاتا ہے، کب تک عوام کو روکیں گے۔

ایم کیو ایم کے سینیٹر نے مزید کہا کہ سندھ حکومت اردو بولنے والوں سے حق چھین رہی ہے، نوجوان سڑکوں پر آئے تو ذمہ داری پیپلزپارٹی حکومت پر ہوگی، زیادہ عرصے تک عوام کو روک نہیں سکتے۔

حیدر عباس رضوی کا کہنا ہے کہ سندھ میں کوٹہ آبزرور کا سیکریٹریٹ صرف ایک ہے، وہاں بھی من پسند افسران بھرتی کئے گئے، شہری سندھ کی نوکریاں دیہی سندھ کے لوگوں کو بیچی جاتی ہیں، آئین کے مطابق 40 فیصد نوکریاں سندھ اربن کا حق ہیں، کراچی، حیدرآباد اور سکھر کے لوگوں کا حق نہیں دیا جارہا۔ سماء

parade

rocket

season

Tabool ads will show in this div