ضمنی انتخابات میں شکست اور جلسے بڑے

Sep 02, 2016

11

جہلم کے حلقہ این اے 63 میں پاکستان تحریک انصاف نے شکست کے بعد ہمیشہ کی طرح انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا ہے اور تحریک انصاف کے امیدوار فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ کچھ پولنگ اسٹیشنز کے ووٹنگ بیگز ابھی ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر کے پاس پہنچے نہیں تھے مگر انہوں نے نتائج کا اعلان کردیا۔

2013 کے عام انتخابات کے بعد ہونیوالے اکثریتی ضمنی انتخابات میں شکست تحریک انصاف کے نصیب میں آئی ہے مگر اس کے باوجود ہر ضمنی انتخاب سے پہلے چیئرمین تحریک انصاف سمیت تمام رہنماؤں کی جانب سے جیت کے دعوے کئے جاتے ہیں جوکہ دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔

11a

ایک طرف تو تحریک انصاف پانامہ لیکس میں وزیراعظم اور ان کے خاندان کے افراد کے نام آنے پر تحقیقات کیلئے مطالبہ کررہی ہے اور دوسری طرف تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن میں بھی وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے افراد کی نااہلی کیلئے ریفرنس دائر کر رکھا ہے، اس بار لگتا ہے کہ تحریک انصاف نے جہلم کے ضمنی انتخاب پر توجہ بھی قدرے کم دی اور آزاد کشمیر میں ہونیوالے انتخابات میں شکست کے بعد بھی عمران خان نے اپنا سارا دھیان پانامہ لیکس کی تحقیقات کیلئے وقف کر رکھا، جس میں ابھی تک انہیں کوئی کامیابی ملتی دکھائی نہیں دے رہی۔

11b

جہلم کے ضمنی انتخابات کے آنیوالے نتائج کے مطابق تحریک انصاف اور حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے امیدواروں کے درمیان تقریباً 8 ہزار ووٹوں کا فرق ہے جو کہ حکومتی جماعت کیلئے اچنبھے کی بات ہے  لیکن اگر دیکھا جائے تو تحریک انصاف کی جانب سے جہلم کے اس حلقے سے امیدوار کا چناؤ بھی غیر متوقع تھا۔

تحریک انصاف کے امیدوار فواد چوہدری جو کہ سیاسی وابستگیاں تبدیل کرنے کیلئے مشہور ہیں، انہیں اس حلقے سے تحریک انصاف کا ٹکٹ دینا یقیناً حلقے کے ووٹرز کیلئے تشویش کا باعث ہوگا، وہ بندہ جو پہلے فوجی آمر کا دفاع کرتا رہا، پھر سابق صدر آصف علی زرداری کو اپنا سیاسی پیر بنالیا اور اس کے بعد جہلم سے ضمنی انتخاب کی ٹکٹ حاصل کرنے کیلئے تحریک انصاف میں شامل ہوگیا، وہ کیسے اس نظریاتی جماعت کی ترجمانی کرسکتا ہے جو کہ تبدیلی کا نعرہ لگاکر سیاست کرتی ہو۔

11c

ممکن ہے کہ جہلم کے اس حلقے سے اگر عمران خان کسی مقامی کو چنتے تو چند ہزار ووٹوں کا فرق تحریک انصاف کو سیاسی فائدہ دلواتا کیونکہ مقامی امیدوار کی علاقے کی ذات برادری تک پہنچ ہوتی، جسے وہ ضمنی انتخاب میں استعمال کرتا مگر بدقسمتی سے عمران خان ابھی تک انتخابات کی سیاست کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ شہروں میں فرق نہیں پڑتا کہ امیدوار کا تعلق اس حلقے سے ہے یا نہیں مگر دیہاتوں میں مقامی امیدوار کا چناؤ کافی اہمیت رکھتا ہے۔

جہلم کے علاوہ پنجاب کے علاقے وہاڑی کی صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 232 میں بھی نواز لیگ کے امیدوار یوسف کسیلہ نے تقریباً ایک ہزار ووٹوں کے فرق سے تحریک انصاف کی امیدوار عائشہ نذیر جٹ کو ہرایا، اس طرح ایک ہی دن میں 2 ضمنی انتخابات میں نواز لیگ کو جیت اور تحریک انصاف کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

11d

پانامہ لیکس کی تحقیقات کے مطالبے، جہلم اور وہاڑی میں شکست کے بعد عمران خان لاہور میں 3 ستمبر کو جلسہ کریں گے، جس میں یقیناً ہزاروں افراد شریک ہوں گے۔

لیکن عمران خان عام انتخابات اور ضمنی الیکشن میں شکستوں کا سامنا کرنے کے بعد بھی ابھی تک انتخاباتی متحرکات کو سمجھنے سے قاصر ہیں، وہ آج بھی بڑے بڑے جلسے اور نیوز چینلز پر دعوے کرکے اقتدار میں آنا چاہتے ہیں، جو کہ ناممکن ہے۔

11e

لاہور کے جلسے میں عمران خان نواز حکومت کیخلاف احتجاج اور اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے مگر ان احتجاجوں اور جلسوں سے ہونیالا کچھ نہیں، جب تک عمران خان پاکستان کے انتخابی محرکات اور امیدواروں کے چناؤ میں تبدیلی نہیں لائیں گے، ان کی سیاست احتجاجوں، جلسوں اور نیوز چینلز تک ہی محدود رہے گی۔ اگلے عام انتخابات ہوں گے اور تحریک انصاف کی پھر سے شکست کے بعد عمران خان دھاندلی کا راگ الاپتے ہوئے احتجاج اور دھرنوں کا اعلان کرتے پائے جائیں گے، ہوگا پھر کچھ نہیں۔

ELECTION

IMRAN KHAN

Tabool ads will show in this div