میں مسلمان کب تھا ۔ ۔ ؟

Muslim

تحریر: عمران احمد راجپوت

جیسے ہی پانچ سال کے ہوئے ابا علاقے میں بنی قریبی مسجد کی مدرسہ گاہ لے گئے امی بہت نارض تھیں کیونکہ امی چاہتی تھیں میں اُن کے مکتبِ فکر کے مدرسے میں داخلہ لوں ابا دیوبند فکر سے تعلق رکھتے تھے اور امی بریلوی مکتبِ فکر سے اورہم اپنی معصومیت کے پانچ سالہ دور میں ہر مکتبِ فکر سے آزاد صرف اِس فکر سے نڈھال تھے کہ اگر سبق یاد نہ کیا تو مولوی کی روز مارکھانا پڑیگی۔ داخلہ ہونے کے بعد ابا خوشی خوشی اور ہم رونتی صورت بنائے گھر میں داخل ہوئے سامنے دیکھا امی غصے میں خولتی صورت بنائے بیٹھی ہیں۔ ہم اپنی رونتی صورت لئے امی کی گود میں جابیٹھے امی اپنے لال کو کلیجے سے لگاتے ہوئے ابا سے مخاطب ہوئیں دیکھو جی میں صاف کہہ دیتی ہوں میرا لال کوئی مدرسے نہیں جائے گا یہ نورانی قاعدہ نہیں یسرن القرآن پڑھے گا اور میں خود اِسے شام کو پڑھایا کروں گی میرا لال تمھارے جیسا نہیں بنے گا نہ نیازنہ فاتحہ نہ درود چلے ہیں مسلمان بننے۔

امی کا اتنا کہنا تھا بس پھر کیا تھا اُس دن ہم نے مذہبی منافرت پر مبنی پہلی لڑائی دیکھی دو قاعدوں کے چکر میں دونوں بے قاعدہ ہوچکے تھے اور خوب ایک دوسرے کے مکتبِ فکرپر کفر کے فتوے برسارہے تھے۔ گھمسان کی لڑائی کے بعدیک لخت ماحول میں خاموشی طاری ہوئی کیونکہ باورچی خانے میں کُوکر بول اُٹھا تھا، بس پھر کیا تھا امی ہرِ فکر سے بے نیاز صرف اِس فکر میں کچن کی طرف دوڑیں کہ کہیں کباب کے لئے چڑھا قیمہ فرقہ پرستی کی نظر نہ ہوجائے۔

امی جلدی جلدی کھانا تیار کرکے ابا کے لئے درسترخوان پڑوسنے لگیں ابا کا موڈ آف تھا شاید اُنکے دماغ میں ابھی بھی مذہبی منافرت سے متعلق کسی مولوی کا درس چل رہا تھا لیکن امی کے ہاتھ کے بنے کھانے کی مہک نے ابا کے دماغ میں اُمڈتے طوفانوں کو تھمنے پرمجبور کر دیا ابا سے ذیادہ دیر اپنے ذہن کی غلام گردشوں میں رہا نہ گیالہذا جلدی ہی دسترخوان پرتشریف فرما ہوگئے امی نے ابا کو کباب کے ساتھ سِل باٹے پر پسی املی اور پودینے کی چٹنی پیش کی جسے ابا کباب کے ساتھ چٹخارے لے لے کر کھاتے ہوئے کھانے کی تعریف کرنے لگے جبکہ امی مکھن سے چپڑے الفاظ پر اپنی مسکراہٹ چھپانے سے قاصر تھیں۔ ہم یہ تمام ماجرہ بڑی حیرانی سے دیکھ رہے تھے اورباورچی خانے میں بجتے اُس کُوکر کے بڑے احسان مند تھے کہ جس نے پل بھر میں منافرتوں کے اُمڈتے طوفانوں کو تھما دیا تھا۔

muslim 2

امی کے بتائے ہوئے رستے پر ہم زیادہ دیر چل نہ سکے کیونکہ فطری طور پر ہمارا ذہن اسطرف چلنے کو تیار نہ تھا اسکی ایک وجہ تو گھر میں ابا تھے دوسری وجہ مطالعے کاوہ شوق تھا جوہمیں فارغ اوقات میں ابا کی کتابوں سے بھری الماری تک پہنچا دیتا تھا۔ جس میں دین تو کم مخالفین کے عقائد پرتکفیری کلمات زیادہ ہوا کرتے تھے۔راستہ تبدیل کرنے کے بعد مطمئین ہوئے کہ بس اب سب ٹھیک ہے لیکن شاہد مطالعے کے شوق نے اپنی جڑیں ہمارے وجود کے اندر تک پھیلا دی تھیں۔لہذا کچھ شعور پایا تو محسوس ہوا کچھ گڑبڑ ہے کیونکہ مسجد کا مولوی بظاہر تو قرآن و حدیث کی بات کرتا ہے لیکن جب بات فروعی مسائل کی آتی ہے تو بجائے قرآن سے رہنمائی حاصل کرنے کے دو ڈھائی سو سال بعد لکھی گئی کسی تیسری کتاب کو لے بیٹھتا ہے جہاں آخرت کے عذا ب کو اعمال کا نتیجہ جبکہ دنیا کے عذاب کو مقدر یا تقدیر کا فیصلہ سمجھاجاتا ہے۔اعتراض ہوا تو آگے بڑھنا مجبوری بنی اور اپنے اُس دوست سے رہنمائی لی جو جانے کب سے ہمارے پیچھے پڑا تھا اور کہتا تھا کہ جس پر ہو وہ راستہ درست نہیں ہے قول وفعل میں تضاد ہے لہذا اصل راستہ قرآن و حدیث ہے جس پر چل کر ہی اپنے لئے جنت کمائی جاسکتی ہے۔

اِس بارے جب تحقیق کی تو پتا چلا کے پچھلے دونوں راستے تکفیر بازوں کی زد میں ہیں جوکمایا سب رائیگاں گیا۔ لہذا ایک بار پھر کمر باندھی اورتیسری راہ لی ابھی راہ فراغت حاصل ہی ہوئی تھی کہ دماغ میں پھر کسی مندر کی طرح گھنٹیاں بجنے لگیں معلوم یہ ہوا کہ تیسری راہ بھی پہلی اوردوسری راہ کی بہن ہی ہے۔ یا اﷲ کیا ماجرہ ہے میرے پروردگار تو تو ہماری شہہ رگ سے بھی قریب ہے، تو پھر اتنی دشواری کیوں۔ کیا سبب ہے کہ ہماری پہنچ تجھ تک نہیں بن پا رہی، کچھ تو گڑبڑ ہے۔ کہاں گڑبڑ ہے یہ پتا لگانے کی ضرورت ہے اور پتا لگانا انتہائی ضروری ہے کیونکہ بات صرف عقائد کی نہیں مشیت خداوندی کی ہے۔ ایسے ہی آنکھیں موندھے رہنا خود کے لئے اورساری انسانیت کے لئے انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے اِس لئے آنکھیں کھول کر جینا ہوگا حقیقت کو سمجھنا ہوگا۔ لیکن یہ سب کس طرح ممکن ہے میرے رب تو ہی بتا تجھے کہاں تلاش کروں کس طرح تلاش کروں اور کتنا تلاش کروں جب اِن سوالوں نے جنم لینا شروع کیا اور اُودھ کر باہر آنے لگے تو مذہبی لبادے میں چھپے ناخداؤں کو جن کے کبھی آنکھ کا تارے ہوا کرتے تھے کھٹکنا شروع ہوگئے۔عجیب بات ہے خدا قرآن میں بار بار انسان کو غورو فکر کرنے اور تحقیق کرنے کی دعوت دیتا ہے اور دوسری طرف ایک مولوی چاہتا ہے کہ ہم اُس کی کسی بات پر سوال نہ کریں کیونکہ اگر ہم سوال کریں گے تو کافر ہوجائیں گے۔ قارئین اگر خدا نے ہم سے اندھی تقلید کروانی ہوتی تو ہمیں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی کیوں دیتا۔ سچا مومن تو وہ ہے جو ہر بات کو سب سے پہلے اپنی عقل کے ترازو پر تولے نہ کہ آنکھیں بند کر کے ہربات میں مولوی کی اندھی تقلید کرتا پھرے۔

بندگی ہم نے چھوڑدی ہے فراز

کیا کریں لوگ جب خدا ہوجائیں

مولوی کو شاید ایسا محسوس ہوا کہ ہم اُس کی دکان اور مسجد کے ساتھ بنے اُس کے مکان کے دشمن ہوگئے ہیں لہذا تینوں راستے جن کی سمت جد ا جدا تھیں ایک ہوئے۔ بجائے اِس کے کہ ہماری بات پر غور وخوض کرتے پھاپا کُٹنی کا کردار ادا کرتے نظر آئے اور اپنے وہی روایتی انداز میں تکفیر سازی کے مجسمے تراشنے لگے۔

میرا اِن تکفیر بازوں سے صرف اتنا کہنا ہے کہ مجھ پر تکفیری کلمات صادر کرنے سے پہلے مجھے یہ بتادیں کہ میں آپ لوگوں کی نظر میں مسلمان کب تھا۔۔؟؟ میں بریلوی ہوکر بھی کافر تھا، میں دیوبندی ہوکر بھی کافر تھا، میں اہلحدیث ہو کر بھی کافر ہی رہا اور آج فکرِ پرویز سے جڑ کربھی کافر ہی ہوں تو دین کے ٹھیکیداروں مجھے اتنا بتادو میں مسلمان کب تھا۔ خدارا مجھے بتاؤ میں مسلمان کب تھا ۔ ۔۔؟؟

میں نے قرآن پڑھا مگر میں ناکام رہا خود کو سنی ثابت کرنے میں وہاں نہ مجھے کوئی شیعہ ملا نہ بریلوی، نہ دیوبندی اور نہ ہی اہلحدیث۔ سن 1953 میں جسٹس منیر کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آئی جس میں مسلمان کی تعریف بیان کرنے سے متعلق فیصلہ شامل تھا۔ رپورٹ میں تحریر تھا کہ ہم مسلمان کی تعریف کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ تمام علماء کی بیان کردہ تعریف کا جائزہ لیا جائے تو عدالت یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور ہے کہ اِس بنیادی سوال پر دو علماء میں اتفاق نہیں ہر عالم ِ دین کی بیان کردہ تعریف دوسرے سے مختلف ہے۔ اگر ایک عالمِ دین کی بیان کردہ تعریف کو عدالت تسلیم کرلے تو دوسرے مکتبہ فکر کے تمام مسلمان دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتے ہیں اگر ایک مکتبہ فکر کے عالم کی تعریف کے مطابق ہم مسلمان ہیں تو دوسرے تمام علمائے دین کی تعریف کے مطابق ہم میں سے ہر ایک کافر ہے، قارئین یہ ہے مولوی کا دین اور اُس کا مسلماں ہونا۔

قارئین قرآن کا اصلی مقصد انسانیتِ عامہ کا تزکیہ اور اُس کا ارتقا ہے۔ یہ تمام انسانیت کو اسی بنیادی اُصول و مقصد کی طرف لوٹانے آیاہے۔ اِس کا پیغام یہ ہے کہ سب انسان ایک ہیں رنگ و نسل اور قوم کا فرق حقیقی نہیں۔ دھڑے بندیاں اور گروہ بنانے کی طبقہ وارانہ ذہنیت غلط ہے۔ قرآن نے زندگی کے یہی عالم گیر اور ناقابلِ تغیر اُصول پیش کئے ہیں اِن کو اگر غور سے سمجھ لیا جائے تو ذہن وحدتِ انسانیت کی صحیح روح کو پالیتا ہے۔ اورمیرا الحمداﷲ قرآن پر اور اُس کے حرف حرف پر پورا اور مکمل ایمان ہے اور مجھے اِس ایمانی کیفیت پر کسی مولوی سے سرٹیفیکٹ لینے کی ضرورت نہیں۔

اپنے ہونٹ سئیے ہیں تم نے

میری زباں کو مت روکو

تم کو اگر توفیق نہیں تو

مجھ کو ہی سچ کہنے دو

ISLAM

MUSLIM

sectarianism

Tabool ads will show in this div