پاکستان زندہ باد

Aug 29, 2016

LOST LEADERS OF MQM PKG 28-08 ALI                ۔۔۔۔۔**  تحریر ؛ کرامت مغل  **۔۔۔۔۔

چند روز سے متحدہ کے قائد کی زہر افشانی اور پاکستان مخالف تقریروں نے میڈیا پر اجارہ داری قائم کی ہوئی ہے، جس کے آفٹر شاکس روز بروز بڑھتے جارہے ہیں، انہی آفٹر شاکس میں سے ایک شاک ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کو بھی لگا، ڈاکٹر صاحب جو کچھ دن پہلے تک متحدہ کا ناصرف حصہ تھے بلکہ ایم کیو ایم کے جنونی کارکن تھے، وہ متحدہ قائد کی تعریفوں کے پُل زمین سے آسمان تک تعمیر کرتے تھے لیکن ایک نعرے نے وہ پل زمین بوس کردیا بلکہ ڈاکٹر عامر لیاقت کے دل کے ٹکڑے ٹکڑے بھی کردیئے۔

AMIR KHAN NAT 23-0802

مایوس کارکن نے اپنے قائد سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے میڈیا پر ببانگ دُہل اعلان کیا کہ انہیں قتل کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، ان کی بوری تیار ہوگئی ہے اور اس بوری میں انہیں پیک کیا گیا تو اس کی ذمہ داری الطاف حسین پر ہوگی۔

کیا یہ جذباتی بیان ہے یا یہ اس راز سے پردہ بھی اُٹھاتا ہے کہ بوری بند لاشوں کی کاریگری کس ہنرمند کا کرشمہ ہے، کراچی شہر نے جتنے جنازے اُٹھائے ہیں اور جتنے غم کے پہاڑ اور مسائل کے اندھیرے روشنیوں کے اس شہر نے دیکھے ہیں، شاید ہی تاریخ قریب میں اس کی کوئی مثال ملتی ہو۔

Mqm Remand khi pkg 26-08

چلیں مان لیتے ہیں کہ یہ ایک دیوانے کے دل ٹوٹنے کا فسانہ اور غم میں ڈوبے ایک مایوس ورکر کا بیان ہے، لیکن دوسری جانب اس نعرے سے لاتعلقی اور اس کا دفاع کرنیوالے اب بھی موجود ہیں، جنہیں نا تو وطن سے محبت کا دم بھرنے والے اپنے آباؤ اجداد یاد ہیں جنہوں نے اس ملک کی آبیاری کیلئے ناصرف اپنا خون دیا بلکہ اپنا سب کچھ قربان کرکے تقسیم کی لکیر کو عبور کرتے ہوئے اپنے خوابوں کی سر زمین پر بے سر و سامانی کی حالت میں قدم رکھا اور اپنی محنت سے عالم میں وہ پہچان بنائی جس کا نام پاکستان ہے، لیکن پھر ایک لیڈر جو اس پہچان میں اپنا ایجنڈا مہاجروں کے حقوق کے نام سے لاتا ہے اور مہاجروں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی بجائے الگ اور تن تنہا اس دوراہے پر کھڑا کردیتا ہے جہاں ان کو اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کیلئے آج پاکستا ن زندہ باد کے نعرے لگانے پڑرہے ہیں، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا  مہاجر تاریخ کے 70 برسوں بعد بھی 1947ء میں ہی کھڑے ہیں، نہیں بالکل نہیں، ایسا ہرگز نہیں۔

Amir Overall Sot 22-081

Mqm Protest Firing Injured New 22-08

صرف بات ہے شعور کی کہ وہ شعور جو انہیں جان و مال کی قربانیوں کے بعد اس پاک سر زمین پر لایا، اس شعور کی دولت کو چھین کر کس نے مہاجروں کے ہاتھوں میں ہتھیار دئیے؟، کیا یہ کوئی نہیں جانتا، اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہیں کہ ہر عام پاکستانی کے پاس اس کا جواب ہے کہ نہیں؟، اس شعور کا استعمال پھر سے کیسے کیا جائے، کیا وہ شعور خوف کے سائے میں کھو گیا ہے، تو یہ خوف کون ہٹا سکتا ہے؟۔ اگر کراچی کی موجودہ صورتحال دیکھی جائے تو متحدہ کیخلاف جو ٹارگٹڈ آپریشن شروع کیا گیا ہے اس سے حاصل کیا ہوگا؟، کیا آفس مسمار کرنے، تصویریں ہٹانے اور پوری جماعت پر پابندی لگانے سے اس مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے، میرا خیال ہے ایسا ممکن نہیں، کیونکہ نفرت کو نفرت سے نہیں بلکہ محبت سے ختم کیا جاسکتا ہے، زخموں پر مرہم رکھنا ریاست اور حکومت کا فرض ہے، اگر ان زخموں کو حکومت مزید کریدے گی تو رسنے والے خون سے پھر وہی چہرے اپنی دکان چمکائیں گے جو آج اس وطن کی بربادی اور تقسیم کیلئے پاکستان کے دشمنوں سے مدد مانگ رہے ہیں۔

Mqm Office Operation pkg 27-08

Mqm Unit Office Down 25-08

شاید مرہم رکھنے سے میرے ہم وطنوں اور مہاجروں کو آج جگہ جگہ اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کیلئے پاکستان زندہ باد کے نعرے نہ لگانے پڑیں اور شاید ڈاکٹر عامر لیاقت کے ٹوٹے دل کو کچھ سکون ملے کہ یہ جتنا میرا ہے اتنا ہی ان کا ہے۔

Dr. Farooq Sattar

PSP

Dr Amir Liaquat Hussain

Tabool ads will show in this div