مارشل لاء کی پیداوار ضرور ہوں مگر اسکے نفاذ کا حامی نہیں، پرویز مشرف

Nov 30, -0001

ویب ایڈیٹر

کراچی : سابق صدر پرویز مشرف کہتے ہیں کہ میں مارشل لاء کی پیداوار ضرور ہوں مگر مارشل لاء کے نفاذ کا حامی نہیں، حکومتیں آئی ایس آئی کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرتی ہیں، فوج کا آئینی کردار نیشنل سیکیورٹی کونسل کے تحت ہونا چاہئے، 2013ء کے انتخابات میں بھرپور دھاندلی ہوئی جس میں جسٹس افتخار چوہدری ملوث تھے۔

سابق صدر اور جنرل (ر) پرویز مشرف نے سماء کی اینکر پرسن غریدہ فاروقی کو خصوصی انٹرویو دیا، ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی تحریک کو سپورٹ کرتا ہوں، پی ٹی آئی کو اپنے الائنس میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں، طاہر القادری بھی اتحاد کا حصہ بننا چاہیں تو خوش آمدید کہوں گا، 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی، اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری دھاندلی میں ملوث تھے، دھاندلی زدہ الیکشن کے تحت بننے والی حکومتیں غیر قانونی ہے، فوج کی نگرانی میں ہونیوالے تمام انتخابات شفاف ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں ‘‘ با اختیار حکومت’’ بننی چاہی، جسے عدلیہ تحفظ دے اور فوج بھی حمایت کرے، فوج کا آئینی کردار نیشنل سیکیورٹی کونسل کے تحت ہو اور فوج کو گورننس پر چیک اینڈ بیلنس رکھنا چاہئے۔

سابق صدر کہتے ہیں کہ میں مارشل لاء کی پیداوار ضرور ہوں مگر مارشل لاء کے نفاذ کا حامی نہیں، آئی ایس آئی کا سیاست میں کردار نہیں ہونا چاہئے، حکومتیں آئی ایس آئی کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرتی ہیں۔

غریدہ کے سوال کہ جنرل کیانی کی تعیناتی درست تھی پر پرویز مشرف نے محض اتنا کہنے پر اکتفا کیا کہ ججمنٹ میں غلطی ہوجاتی ہے۔ سماء

کا

D-Chowk

news

federal

Tabool ads will show in this div