متحدہ پاکستان بمقابلہ الطاف حسین

 9a

سوموار کے دن متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے سربراہ الطاف حسین کی گولہ باری کے بعد منگل کے روز متحدہ کے ڈپٹی کنوینر فاروق ستار نے اپنے قائد سے لاتعلقی کا اظہار کردیا، سوموار کی رات 8 گھنٹے رینجرز کا مہمان رہنے کے بعد منگل کے روز فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اب متحدہ کے فیصلے پاکستان میں ہوا کریں گے۔

مگر اصل سوال یہ ہے کہ متحدہ الطاف حسین کے بغیر چل پائے گی؟، وہ جماعت جس کی بنیاد الطاف حسین نے 1984ء میں اردو بولنے والوں کے حقوق حاصل کرنے کیلئے رکھی، کیا وہ جماعت اپنے بانی الطاف حسین کے بغیر اپنا وجود قائم رکھ سکے گی؟۔

9

یہ پہلا موقع نہیں جب الطاف حسین کی بارودی تقریروں کے بعد متحدہ کو مشکلات کا سامنا ہے اور نہ ہی یہ پہلا موقع ہے جب الطاف حسین نے اپنی متنازع تقاریر کے ذریعے ناصرف پاکستان سے متعلق مغلظات اُگلیں بلکہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی شان میں بھی گستاخی کی، اس کے علاوہ الطاف حسین نے تین چینلز کا نام لیکر ان کیخلاف کارکنوں کو بھڑکایا، جس کے نتیجے میں مشتعل کارکنوں نے اے آر وائی نیوز کے دفتر پر حملہ کیا۔

فاروق ستار کی جانب سے کئے جانے والے اعلان کے بعد متحدہ کے دیگر رہنماء بھی سابق میئر کراچی کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں اور چونکہ فاروق ستار کا نام متحدہ کے سربراہ کے طور پر الیکشن کمیشن میں درج ہے، اس لئے متحدہ کو نیا سربراہ منتخب کرنے کی ضرورت نہیں۔

موجودہ حالات میں جو رہنماء، نمک حلالی دکھاتے ہوئے الطاف حسین کے ساتھ منسلک رہنا چاہے گا، ممکن ہے کہ اسے بھی سندھ رینجرز چند گھنٹوں کیلئے مہمان بنائے۔

9b

ماضی میں الطاف حسین کی جانب سے متحدہ کی مقامی لیڈر شپ پر متعدد بار عدم اعتماد کا اظہار کیا جاچکا ہے، ایک بار پھر الطاف حسین کا اپنے کارکنوں کو قانون ہاتھ میں لیکر 3 نیوز چینلز پر حملے کرنے پر اکسانا بھی واضح کرتا ہے کہ ایم کیو ایم قائد نے مقامی رہنماؤں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کارکنان سے خود ہی حساب برابر کرنے کا حکم دیا۔

اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کسی بھی موقع پر منعقد ہونے والے متحدہ کے جلسوں میں لاکھوں حاضرین اسٹیج پر موجود رہنماؤں کی تقریروں کو انتہائی کم دلچسپی سے سنتے ہیں،  چاہے وہ فاروق ستار ہوں یا پھر سندھ اسمبلی میں متحدہ کے اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن،  جو اہمیت متحدہ کے ورکرز کی جانب سے اپنے قائد کی تقریر کو دی جاتی ہے وہ اور کسی رہنماء کی قسمت میں نہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی الطاف حسین سے علیحدگی کے بعد اب سوال یہ ہے کہ جو اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اُس متحدہ کی سیٹ پر منتخب ہوئے، جس کے سربراہ الطاف حسین تھے کیا انہیں اپنے ووٹرز کی وہ حمایت حاصل رہے گی؟۔ کیا وہ اراکین اسمبلی فاروق ستار کے احکامات کی اس طرح سے پیروی کریں گے جس طرح سے وہ الطاف حسین کے احکامات کی کرتے تھے۔

9c

یہ بھی ممکن ہے کہ فاروق ستار سمیت متحدہ کے دیگر رہنماؤں نے الطاف حسین سے علیحدگی بغاوت کے ممکنہ کیس سے بچنے اور متحدہ کے دفاتر دوبارہ حاصل کرنے کیلئے کی ہو کیونکہ الطاف حسین کی تقریر کے بعد حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ان کی معافی کے بعد بھی متحدہ کے قابو میں نہیں آپائیں گے۔

متحدہ کے مقامی رہنماء بے شک الطاف حسین سے علیحدگی اختیار کرلیں مگر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ سیاسی کارکن اپنی عقل کا استعمال نہیں کرتا بلکہ وہ ایک نظریے کی پیروی میں اندھا ہوتا ہے، اُسے جو دکھائی دے رہا ہوتا ہے وہ اس پر یقین کرتا ہے۔ لہٰذا اگر یہ کہا جائے کہ الطاف حسین کی متحدہ سے علیحدگی دکھاوا بھی ہے تو یہ ممکن نہیں کہ متحدہ کا کارکن الطاف حسین کی جگہ کسی اور کو اپنا لیڈر مان لے۔

ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ پاکستانی جمہوریت چند سیاسی شخصیتوں اور خاندانوں کے ہاتھوں یرغمال ہے، پاکستان مسلم لیگ نواز، شریف برادران کی جماعت ہے، پاکستان پیپلز پارٹی پر بھٹو اور زرداری خاندان کا قبضہ ہے، تحریک انصاف بھی عمران خان کی جماعت ہے حتیٰ کہ عوامی نیشنل پارٹی پر بھی ولی خاندان مسلط ہے، لہٰذا متحدہ کا وجود الطاف حسین کے بغیر سوچنا بھی بیوقوفی ہوگا، یہ تو ممکن ہے کہ الطاف حسین کی اولاد میں سے کوئی متحدہ کی سربراہی سنبھال لے مگر اس کے علاوہ کچھ ممکن نہیں۔

اب دیکھنا ہوگا کہ اگر چند دنوں بعد الطاف حسین ایک بار پھر بذریعہ فون اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے ہیں اور کارکنوں کو ان لیڈران کیخلاف اُکساتے ہیں، جنہوں نے الطاف حسین سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے، تو پھر ان کا مستقبل کیا ہوگا؟۔

HATE SPEECH

Dr. Farooq Sattar

Tabool ads will show in this div