کراچی کے مسائل کا سیاسی حل

MQM 5 Arrest

الطاف حسین کی نفرت انگیز تقریر نے چند دنوں میں کراچی کا سارا منظرنامہ ہی بدل دیا ہے۔ وہ تمام لوگ جو رینجرز کی مدد سے کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے قلع قمع کی امید لگائے بیٹھے تھے اب ا یک نئے بکھیڑے میں پڑ گئے ہیں۔ ایم کیو ایم کی جمہوری بھوک پڑتال کا سارا مقصد اور تاثر ہی زائل ہو چکا ہے۔ سیاسی جماعتوں سے روابط کا سلسلہ ٹوٹ چکا ہے۔ ایک ہنگامی صورت حال برپا ہو چکی ہے۔ فوری ایکشن وقت کا اولین تقاضہ ہے۔ گرفتاریاں ، نظر بندیاں ، معافی نامے اور معذرتیں شروع ہو چکی ہیں۔ ایک طرف الطاف حسین کے بیان پر معافی مانگی جاتی ہے تو دوسری طرف قائد کے حق میں بھی بیان آنے شروع ہو چکے ہیں۔ لندن اور پاکستان کی متحدہ گو الگ زبان بول رہی ہے لیکن الطاف حسین کی بظاہر پارٹی پر گرفت اسی طرح قائم ہے جیسی کہ اس نفرت انگیز تقریر سے پہلے تھی۔

ہنگامی صورت حال، ہنگامی اقدامات کی متقاضی ہوتی ہے۔ ایسے میں تاریخی حوالے دینے ، بحث کرنے سے اور بات کو طول دینے کی فرصت کسی کو نہیں ہوتی، ایکشن لینا پڑتا ہے، کارروائی کرنا پڑتی ہے،ملکی سلامتی کی اساس کا دفاع کرنا ہوتا ہے۔ اس ایک تقریر کے بعد رینجرز نے جو کیا وہی وقت کا تقاضا تھا،  وہی وقت کی ضرورت تھی۔ ملک کے خلاف بات کرنے والوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔ ایم کیو ایم کا گڑھ نائن زیرو سیل کر دینا ، ملحقہ علاقے میں آپریشن کرنا ، اہم رہنماؤں کو گرفتار کرنا،ملکی ساکھ کے لیئے ضروری تھا۔ ایسے میں یہ بحث نہیں ہو سکتی تھی کہ ایم کیو ایم کس نے بنائی، کس نے انکو پروان چڑھایا اور کس دور میں اس کی ہر طرح سے جائز اور ناجائز امداد کی گئی۔ کون کب، کب غلط تھا اور کس کی غلطی کی سزا ہم کو کب تک بھگتنا پڑے گی۔ یہ لمحہ ان بحثوں سے ماورا تھا اور ہونا بھی ایسا ہی چاہیے تھا۔

Mqm Attack Media Pkg 22-08

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ایکشن مسئلے کا دائمی حل ہے؟ کیا اس سے ایم کیو ایم کی قوت کو ختم کیا جا سکتا ہے؟ کیا الطاف حسین کی شخصیت کے سحر سے ووٹروں کا نکالا جا سکتا ہے؟کیا گرفتاریوں سے ایم کیو ایم کو ختم کیا جا سکتا ہے؟میرے ذاتی خیال میں یہ ہنگامی اقدامات وقتی طور پر درست ہیں لیکن اگر کوئی مستقل حل درکار ہے تو وہ حل سیاسی بنیادوں پر ہی تلاش کیا جا سکتا ہے۔

سیاسی طور پر پاک سر زمین پارٹی ایک نئی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے۔ کراچی کے عوام کی نئی دعویدار پارٹی انہی عناصر کی مدد سے تشکیل پا رہی ہے جن سے ایم کیو ایم کا خمیر اٹھا ہے۔ نام بدل لینے سے سب کچھ تبدیل نہیں ہوجاتا۔ انیس قائم خانی کے سب گناہ دھل نہیں جاتے۔ رضاہارون کی لسانی سوچ ختم نہیں ہو جاتی۔ مصطفی کمال کا ماضی بے داغ نہیں ہو جاتا۔ اس پارٹی کی عوامی پذیرائی بھی کسی طرح سے اس کو عوامی نہیں بناتی۔ اس طرح کی ایک پارٹی ماضی میں ایم کیو ایم حقیقی کے نام سے سامنے آچکی ہے۔ حقیقی کا نام رکھنے کے باوجود وہ ایم کیو ایم کا جعلی کردار ہی رہے اور آخر میں اس کے بیشتر ممبران ایم کیو ایم میں واپس شامل ہوگئے۔ ایسے لوگ پارٹی میں ہمیشہ غدار کی صورت میں دیکھے جاتے ہیں۔پاک سر زمین پارٹی سے کسی کرشمے کی توقع کرنا حماقت ہوگی۔اتنا کہہ دینا کافی ہوگا کہ اچانک لگائے جانے والے پودے زمین میں جڑ نہیں پکڑتے اور زیادہ پانی دینے کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔

azim mqm

پیپلز پارٹی کراچی کے حالات میں اب اتنے اہم نہیں رہے۔ کرپشن کے الزامات نے اسکو اندرون سندھ تک محدود کر دیا ہے۔ متحدہ کے ووٹ کا توڑ اب اس پارٹی کے پاس نہیں ہے۔ انکے اپنے مسئلے اور بکھیڑے ہیں۔ لیاری جو کبھی ان کا گڑھ تھا اب وہ بھی ان کے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔بلاول بھٹو کی صورت میں نوجوان قیادت تو موجود ہے مگر ابھی اتنی موثر نہیں کہ ایم کیو ایم کے ووٹر کا دل جیت سکے۔دو ہزار تئیس تک اپنی ساکھ کو بحال کرنے کے لیئے ابھی اس پارٹی کو بہت کام کرنا پڑے گا۔ کوئی فوری حل پیپلز پارٹی کے پاس نہیں ہے۔

حکمران جماعت نے کراچی میں رینجرز کا آپریشن شروع کروایا جس سے امن و امان کی صورت حال میں بہت بہتری ہوئی۔ اسکا کریڈٹ رینجرز کو بھی جاتا ہے۔ لیکن سیاسی طور پر پی ایم ایل این نے کراچی کے ساتھ کافی یتیمانہ سلوک کیا ہے۔ نہ کراچی میں حکمران جماعت کی قیادت کسی بھی مسئلے میں سامنے آتی ہے نہ کسی بھی سیاسی مسئلے میں انکی طرف سے کوئی سنجیدہ کارروائی نظر آتی ہے۔ نہ تنظیمی طور پر پی ایم ایل این کا کوئی وجود کراچی میں نہ انکی کوئی ورک فورس کبھی سامنے آئی ہے ۔کراچی پاکستان کی معاشی شہہ رگ ہے،اس کو نظر انداز کر دینا ایک بہت بڑی غلطی ہے۔ لیکن بات اس وقت غلطیوں کی نہیں ہو رہی ہمیں تو حل کی تلاش کرنا ہے۔

جماعت اسلامی وہ واحدجماعت ہے جو ایم کیو ایم کے دور پر آشوب میں بھی کراچی میں اپنی موجودگی بڑے واضح طور پر رکھتی رہی ہے۔ جماعت نے اس موجودگی اور سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں بہت نقصانات بھی اٹھائے۔ ان کے پاس نوجوان قیادت بھی اور منظم کارکنوں کی ورک فورس بھی ہے۔ انہوں نے وہاں لوگوں کے لیئے کام بھی کیا ہے اور جماعت کی اپنی ساکھ بھی بری نہیں ہے گو کہ انکا مقابلہ ایم کیو ایم سے انتخابی میدان میں نہیں کیا جاسکتا لیکن ان کی جماعت کی کاوشوں کی داد ضرور دی جا سکتی ہے۔ جماعت اپنی موجودگی اور تمام تر کاوشوں کے باوجود الطاف حسین کی شخصیت کا سحر نہیں توڑ سکی۔MQM Leaders Trouble 2400 KHI PKG 28-07 RAHEEL

پی ٹی آئی وہ واحد جماعت ہے جس نے دو ہزار تیرہ کے الیکشن میں حقیقی معنوں میں ایم کیو ایم کو نہ صرف چیلنج کیا بلکہ ووٹوں کی تعداد کے زمرے میں بڑی کامیابی بھی حاصل کی۔ گزشتہ انتخابات میں ایم کیو ایم کے اہم حلقوں سے ووٹر پی ٹی آئی کے حق میں باہر نکلے اور ایک نئی امید ، ایک نئے پاکستان کو ووٹ دیا۔ یہ درست ہے کہ پی ٹی آئی نے ان انتخابات میں ایم کیو ایم کو شکست نہیں دی مگر ووٹرز کا خوف توڑ دیا۔ جو کہ بذات خود اایک بہت بڑی کامیابی تھی ۔ اگر پی ٹی آئی کراچی میں محنت کرتی، سمت درست رکھتی تو آج کراچی کے مسئلے کا حل ان کے پاس ہو سکتا تھا۔ لیکن تنظیمی معاملات میں بدنظمی اور صرف اقتدار کے حصول کی سیاست نے ووٹرز کی اس نئی امید کو ختم کردیا ہے۔

Mustafa Kamal Pc Khi 26-04

کراچی کے مسئلے کا حل ایم کیو ایم پاکستان کی موجودہ سیاسی قیادت کے پاس ہے۔ ان ہی میں سے کچھ لوگ اٹھیں اور جبر ، خوف اور نفرت کی سیاست کو ختم کر سکتے ہیں۔ وہی الطاف حسین کو الوداع کر سکتے ہیں۔ وہی ووٹرز کو مطمئن کر سکتے ہیں۔ ایسے لوگ جو پارٹی کے غدار بھی نہیں ہیں اور ووٹرز کے لیئے غیر بھی نہیں یہ وہ لوگ ہوں گے جو پارٹی کے تو وفادار ہوں گے مگر الطاف حسین سے قطع تعلق کر لیں گے۔۔لیکن اس مرحلے پر انہیں دوسری سیاسی جماعتوں کی مدد بھی درکار ہو گی۔ کراچی میں نارمل سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے سے ہی حالات نارمل ہوں گے۔ کراچی کا تاج کس کے سر ہوتا ہے، یہ الگ بات ہے ۔ اس وقت پاکستان کی ساکھ کا مسئلہ ہےاور اس ساکھ کی بحالی میں ایم کیو ایم کے ساتھ دوسری سیاسی جماعتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔  کراچی میں اقتدار کی سیاست سےبہت پہلے پاکستان کی سیاست کی ضرورت ہے جو پاک سر زمیں پارٹی کے کھوکھلے نعروں کے بس کی بات نہیں دکھائی دے رہی۔

FAROOQ SATTAR

jamat islami

Pak Sar Zameen

Tabool ads will show in this div