متحدہ کارکنوں کا اے آر وائی کے دفتر پر حملہ، توڑ پھوڑ، فائرنگ، ایک شخص جاں بحق

MQM POLICE FIGHT EX FTG 22-081

کراچی : متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنان ہڑتالی کیمپ کی صحیح کوریج نہ کرنے پر مشتعل ہوگئے، نجی ٹی وی چینلز کے دفاتر کے گھیراؤ کا اعلان کردیا، کارکنوں نے اے آر وائی نیوز کے دفتر کے دروازے توڑ ڈالے اور میڈیا ورکرز پر تشدد کیا، اگلے مرحلے میں سماء کے دفتر جانے کا اعلان کردیا، پولیس نے سماء سمیت ٹی وی چینلز کو سیکیورٹی فراہم کرنے کا اعلان کردیا، نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پولیس اہلکار اور خاتون سمیت کئی افراد زخمی ہوگئے۔ اسپتال ذرائع نے ایک شخص کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی۔

Zainab Market Shops Close 22-081

متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنان نے بھوک ہڑتالی کیمپ سے متعلق خبریں نشر نہ کرنے پر نجی ٹی وی چینلز کے دفاتر کے گھیراؤ کا اعلان کردیا، کیمپ ڈرامائی صورتحال پیدا ہوگئی، کارکنان زینب مارکیٹ کے قریب مدینہ سٹی مال میں نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کے دفتر پہنچ گئے، کارکنوں کو کنٹرول کرنے کیلئے پولیس نے لاٹھی چارج اور شیلنگ کی تاہم متحدہ کارکنوں کی جانب سے بھی پتھراؤ کیا گیا۔

مزید دیکھیں : فوارہ چوک پر فائرنگ اور لوگوں کے زخمی ہونے کے مناظر

Zainab Market Shops Close 01 22-08

ایم کیو ایم کے مشتعل کارکنوں نے زینب مارکیٹ کے قریب تعینات پولیس وین اور کئی گاڑیوں کو آگ لگادی، نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ بھی کی گئی، جس سے پولیس اہلکار سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے، اسپتال ذرائع نے ایک شخص کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی۔

ویڈیو دیکھیں : اے آر وائی نیوز کے دفتر میں توڑ پھوڑ کے مناظر

Zainab Market Shops Close 22-08

ایم کیو ایم کے مشتعل کارکنوں نے زینب مارکیٹ کے قریب تعینات پولیس وین کو آگ لگادی، نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ بھی کی گئی۔

سماء کے کیمرہ مین کے مطابق مشتعل افراد نے میڈیا ورکرز کو توڑ پھوڑ اور میڈیا پر حملے کی کوریج سے روک دیا، جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔

مزید جانیے : شرپسندوں کا متحدہ سے کوئی تعلق نہیں، عامر لیاقت حسین

پریس کلب اور اطراف کے علاقوں میں صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے پولیس کی بھاری نفری اور رینجرز اہلکار بھی پہنچ گئے، صورتحال انتہائی کشیدہ ہے، متحدہ کی خواتین کارکنوں کی بھی بڑی تعداد بھوک ہڑتالی کیمپ میں موجود ہے۔

MQM POLICE FIGHT EX FTG 22-08

پریس کلب پر متحدہ قومی موومنٹ کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں ایم کیو ایم کے قائدین بھی موجود تھے تاہم کسی نے بھی مشتعل کارکنوں کو روکنے کی کوشش نہ کی، اے آر وائی نیوز کے دفتر کے باہر جمع ہونے والے کارکنوں کو بھی روکنے کیلئے بھی کوئی رہنماء نہیں آیا۔

ڈاکٹر عامر لیاقت کا اظہار مذمت، معافی بھی مانگ لی

عامر لیاقت حسین کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم صورتحال کو دیکھ رہی ہے، جلاؤ گھیراؤ کرنے والوں سے متحدہ کا کوئی تعلق نہیں، چینلز پر حملہ آزادی صحافت اور آزادی اظہار کیخلاف ہے، واقعے کی مذمت کرتے ہیں، پارٹی کی پالیسی پاکستان زندہ باد ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے کارکن ملوث ہوئے تو سب سے معذرت خواہ ہیں تاہم ابھی صورتحال واضح نہیں ہے، اپنے طور پر بھی تحقیقات کریں گے۔

کارکنوں کی گرفتاریاں جاری

کراچی پریس کلب کے اطراف ایم کیو ایم کے مشتعل کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوگیا، پولیس کی بھاری نفری مرد کارکنوں کو پکڑ کر لے جارہی ہے جبکہ خواتین کارکنان پولیس کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

ڈی جی رینجرز کا اعلان

ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر نے میڈیا ہاؤسز پر حمنلے میں ملوث شرپسندوں کیخلاف بھرپور کارروائی کا اعلان کردیا، کہتے ہیں قانون ہاتھ میں لینے والوں کو نہیں چھوڑیں گے، کسی کو امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔

بھوک ہڑتالی کیمپ اکھاڑ دیا گیا

ایم کیوایم کی جانب سے بھوک ہڑتالی کیمپ سے کارکنان اطراف کے علاقے میں پھیل گئے اور بدترین شرپسندی کی، اس واقعے کے بعد رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری نے پریس کلب کا گھیراؤ کرلیا اور بھوک ہڑتالی کیمپ کیلئے لگایا گیا ٹینٹ اکھاڑ دیا گیا۔

وفاقی وزیر داخلہ کا نوٹس

چوہدری نثار علی خان نے کراچی میں اے آر وائی نیوز کے دفتر اور میڈیا نمائندگان پر حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ڈی جی رینجرز کو شرپسندوں کیخلاف کارروائی کا حکم دے دیا۔

متحدہ قائدین کیخلاف مقدمے کی تیاری

کراچی پولیس نے متحدہ قائد الطاف حسین اور دیگر قائدین کیخلاف شر انگیزی اور املاک کو نقصان پہنچانے اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کی تیار کرلی۔

Mqm Hunger strike 1800 khi pkg 18-08

پولیس کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں شامل ارکان اسمبلی کیخلاف بھی مقدمہ درج ہوگا، پولیس نے متحدہ قائد کی تقریر کی فوٹیجز بھی حاصل کرلیں۔

hunger strike

Workers Attack on TV Channels

Firing and Stone Throwing

Tabool ads will show in this div