گل مکئی یا مغربی ایجنٹ

MALALA 19TH BIRTHDAY PKG 12-07 ASIF

 تحریر: عدیل زمان

گل مکئی کے نام سے مشہور ہونے والی سوات کی ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملے کے باوجود سوشل میڈیا پر صرف منفی پوسٹ ہی دیکھنے کو ملتی ہیں، لیکن اس بار ملالہ کے حوالے سے کچھ مثبت خبر سننے میں آئی جسے پاکستانیوں تک ضرور پہنچنا چاہئے اور اس کیلئے سوشل میڈیا سے بہترپلیٹ فارم کوئی ہونہیں سکتا۔

Pakistani activist for female education and Nobel Peace Prize laureate Malala Yousafzai listens to speakers at an event to commemorate the Peshawar school massacre in Birmingham, north England on December 14, 2015. On December 16, 2014 Taliban gunmen coldly slaughtered more than 150 people, most of them children, at an army-run school in Peshawar. AFP PHOTO / PAUL ELLIS / AFP PHOTO / PAUL ELLIS

چند روز قبل برطانیہ میں ایک عزیزہ کے ساتھ ملالہ کی ایک تصویر دیکھی، واضح رہے جس خاتون کا یہاں ذکر کیا جارہا ہے وہ پاکستان کی ایک معروف شخصیت کی بیگم ہیں، اس لئے ان کا نام لینا یہاں مناسب نہیں سمجھتا۔ خیروطن واپسی پران خاتون سےرابطہ کیا، حال احوال کے بعد بے صبری سے ملالہ سے ملاقات کے بارے میں دریافت کیا کہ آنٹی آپ کی ملالہ سے ملاقات کی تصویر دیکھی تھی، کیسی رہی اس سے ملاقات۔ اس سوال کے جواب میں آنٹی نے جو جوابات دیئے ، وہ خلاف توقع تھے۔

malala-yousafzai-ftr

خاتون نے بہت ہی شفقت سے بتایا بیٹا بڑی پیاری بچی ہے، بہت عزت دینے والی، اس کے ساتھ کافی طویل ملاقات ہوئی، ہم نے ساتھ میں کھانا بھی کھایا، پاکستان کیلئے بہت مثبت خیالات رکھتی ہے اور مذاقاً کہا بہت ہی اچھی انگریزی بھی بولتی ہے، میں نے پوچھا آنٹی یہاں تو اس کے بارے میں لوگوں کی سوچ انتہائی منفی ہے اور  لوگ کہتے ہیں وہ کافی مغرور بھی ہے، میرے سوال کے جواب میں خاتون کا لہجہ تھوڑا تلخ ہوگیا، انہوں نے دوبارہ بولنا شروع کیا، بیٹا لوگ تو بنا کسی کو جانے نہ جانے کیا کیا کہتے رہتے ہیں، وہ بچی انتہائی خاکسار ہے، غرور تو دور کی بات ہے ، کھانا کھانے کے بعد وہ پلیٹیں اٹھا کر لے گئی اور میرے کئی بار منع کرنے کے باوجود بھی برتن دھوئے، کیا ایسی بچی مغرور ہوسکتی ہے جو بڑوں کی عزت کرنے میں اس حد تک آگے ہو؟، خاتون کے اس حوالے کے جواب میں میرے پاس خاموشی کے سواء کچھ نہ تھا، لہٰذا کچھ دیر بعد میں نے دوبارہ ایک اور سوال کیا کہ آنٹی میں نے آخری مرتبہ ملالہ کو ٹی وی پر نوبل انعام ملنے کے بعد ہونے والی تقریر میں دیکھا تھا، اس کا چہرہ اس وقت تک ٹھیک نہیں ہوا تھا، کیا اب بھی ایسا ہی ہے؟ خاتون نے بجھے ہوئے دل کے ساتھ جواب دیا ہاں بیٹا بیچاری بچی کا چہرہ آج بھی ویسا ہی ہے، جسے وہ بار بار اپنے دوپٹے سے ڈھانپتی رہتی ہے۔

Pakistani activist for female education and Nobel Peace Prize laureate Malala Yousafzai attends a press conference at the QEII centre in central London on February 4, 2016, during a donor conference entitled 'Supporting Syria & The Region'. World leaders gather in London on Thursday to try to raise $9 billion (8.3 billion euros) for the millions of Syrians hit by the country's civil war and a refugee crisis spanning Europe and the Middle East. / AFP PHOTO / JUSTIN TALLIS

آنٹی سے ہوئی اس تمام گفتگو کے بعد میں ساری رات یہ ہی سوچتا رہا کہ ایک بیچاری بچی جو موت کو تقریباً شکست دے کر آگئی، جس کا قصور بھی صرف اتنا تھا کہ اس نے دہشت گردوں کی جانب سے سوات میں ڈھائے جانے والے مظالم کیخلاف آواز بلند کی اور اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا، اپنا ملک چھوڑنا پڑا، معاذ اللہ آج اپنا ٹیڑھا منہ لیکر دنیا میں گھومتی ہے لیکن بدلے میں اگر وہ کچھ خرید سکی تو اپنے ملک کے لوگوں کی نفرت ۔۔۔ ناں کہ محبت۔

Malala Yousufzai

Nobel Laureates

malala yousaf zai

Nobel Prize Winner

Tabool ads will show in this div