فقط تمہارا قاتل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔**  تحریر : صفاء سرور خان **۔۔۔۔۔

پیاری بیٹی رابعہ

لاہور کے ہوٹل سے تمہاری لاش ملی، کہنے والے کہتے ہیں تم نے خود اپنی جان لی ہے، شادی کی خواہش میں! شادی شدہ آدمی سے شادی کرنا چاہتی تھیں مگر ناکامی پر تم نے اپنی زندگی ختم کرڈالی اور اب تم سو چکی ہو ابدی نیند۔

اُمید ہے کہ تم آرام سے سو چکی ہوگی مگر نا جانے کیوں عجیب سا احساس ہے، احساس جو بہت پہلے مر چکا تھا مگر نا جانے کہاں سے تمہارے لئے جاگ اٹھا، شاید اس لئے کہ تم خوبصورت ہو اور جوان بھی، تمہاری نیند مجھ پر بوجھ سی بن گئی ہے، ویسے بڑی جلدی تھی تم کو سونے کی، یہ نیند بھی بڑی عجیب چیز ہے اور ابدی نیند تو کبھی جو آئے کوئی نہیں روک پاتا، خیر میں احساس کی بات کررہا تھا، شاید صدی پہلے کی بات تھی آخری بار، احساس یوں بھی ہے کہ تم خوبصورت ہو، جو گر عام سی ہوتیں تو شاید یہ مردہ کبھی نا جاگتا مگر خیر تم جوان بھی ہو اور خوبصورت بھی اس لئے سوچا تم سے چند باتیں کہہ ڈالوں۔ Rabia Death Followup Lhr Pkg 02-08

میری بیٹی تو تم نے وہ ہی کیا جس کی میں نے تم کو تربیت دی تھی، اپنی جان لے لی، ہاں میں نے ہی تم کو سکھایا تھا کہ ماں باپ، بہن بھائی سب کی محبت ایک طرف، مذہب کی تو خیر بات رہنے ہی دو اس کا پاس رکھنا پرانی بات ہوچکی ہے، ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ بھئی سب کی محبت پر بھاری رہی یہ فلمی سی محبت، بھئی کیا کہنے، خوب کیا ناداں لڑکی، سب کچھ لٹا دیا تھا اس بے وفا پر، ارے میرے سارے ہی بیٹے ایسے ہیں، ہاں آج کے وقت میں میری بیٹی اور آخر میں جان بھی دے دی، ہاں بھئی محبت میں اگر دینے کیلئے جب عزت بھی نہ رہے تو جان ہی دینی پڑجاتی ہے۔

بڑی شاطر ہے یہ محبت مگر میری بیٹی آج کی فلموں میں بھی اب ایسا نہیں ہوتا تو نے کیوں کر ڈالا، کوئی اور مل جاتا اور دیکھ ذرا اس کی بیوی میری ایک شیر دل بیٹی، ایسی ہیں میری آج کی بیٹیاں میرا فخر، پیٹا اس نے تجھے اور تیرے گھر والوں کو ایسے شوہر کی خاطر جو اس کی موجودگی میں دوسری عورتوں سے تعلقات رکھتا تھا۔ شاباش میری بیٹی تیری غیرت کو میرا سلام۔

Girl Murder Followup Isb Pkg 22-11

میں نے ہی اپنے بچوں کو سکھایا ہے کہ بیوی کے علاوہ عورت کو دوست بنا کے رکھا جاسکتا ہے یعنی وہ کیا کہتے ہیں آج کے زمانے میں؟ ہاں گرل فرینڈ، ہاں تو غیر عورت کو گرل فرینڈ بنانا نئی تہذیب میں جائز ہے مگر اس سے دوسرا نکاح، یہ باتیں جاہل مولویوں کی ہیں، اسے جانے دو گرل فرینڈ جائز تھی بٹیا یہ تم نکاح کی آس کیوں کر بیٹھیں؟، پگلی، ناں ناں میری بیٹی دُکھی نہ ہو بھلا پڑھے لکھے کیوں کر تیرے لئے بولیں گے کوئی کیوں تیرے لئے موم بتی جلائے گا، تمہارا قتل کوئی غیرت کے نام پر تھوڑی ہوا ہے، یہ تو سراسر تیرا اپنا اقدام ہے، اگر کہتی ہے تو تیرے حسن کے خاطر کہے دیتا ہوں کہ تیرا قتل بے غیرتی کے نام پر ہوا ہے، اس پر کوئی احتجاج تھوڑی کرتا ہے ناداں۔

مجھے لگتا ہے تو خوش نہیں ہے، یہاں کوئی بھی خوش نہیں ہے بٹیا، بس سب چاہتے ہیں کہ یہ مان لیا جائے تم نے خودکشی کی ہے، ہاں بس یہ ہی فیصلہ ہے اور یہ ہی انصاف، میرا انصاف، تم تھیں ہی ناداں اور جب کچھ نہیں بن پڑا تو تم نے خودکشی کرلی، میں نہیں چاہتا تم جیسی بیٹیوں کے خاطر میں اپنے بیٹوں کو انصاف کے کٹہرے میں لاؤں، تم ہی ناداں تھیں میرے شریف بیٹوں کو اپنے حسن سے مرعوب کرنے چلیں تھیں، اچھا اب تم آرام سے سو جاؤ، اب تم جہاں ہو وہاں میرا انصاف نہیں چلتا، نا ہی کسی اور کا، جہاں تم ہو نہ بیٹی وہاں ہی تو اب انصاف ہے، تمہارے کردہ ناکردہ جرم جو میں نے محض بیٹی ہونے پر تم پر ڈالے ہیں وہ سب کچھ واضح ہیں وہاں، مجھے بھی خوف ہے بیٹی وہاں کا، کہیں تم میرے سب بچوں کی شکایت نہ کردینا اور پھر حشر کے دن، مگر خیر ہے، ابھی تو تم کہیں نہیں ہو، اب میرے بیٹے سلامت ہیں اور مجھے کوئی دکھ نہیں، بیٹیاں بھی میری وہ ہیں جو غیرت کے نام پر مرتی ہیں، تم جیسیوں کو تو ۔۔۔۔ خیر خط بہت لمبا ہوگیا ہے وقت کہاں ہوگا تمہارے پاس پڑھنے کو، دیکھو شکایت کرتے ہوئے وہ احسان ضرور یاد رکھنا جو میں نے تم پر کئے۔ وہاں خوش رہنا میری بیٹی۔ اور خیال رکھنا، انصاف کا۔

فقط تمہارا ۔۔۔۔۔۔ قاتل ۔۔۔۔۔ معاشرہ۔

Girl Suicide

Girl Murder in Hotel

Rabia Murder Case

Tabool ads will show in this div