خود انصافی کا جن ہوا بے قابو

Aug 16, 2016

12

پہلے  تو  صرف  بالی ووڈ کی فلموں میں ہی دیوا  کی عدالت لگتی  تھی جس میں ملک کے نظام سے نا امید ہیرو خود ہی وکیل، منصف اور پوليس بن کر گناہ گاروں کو سزا دیتا تھا، ایسی عدالتیں شاید پڑوسی ملک بھارت میں عام زندگی میں لگتی ہیں یا نہیں مگر پاکستان میں ٹی وی اسکرینوں پر خود انصافی کے ایسے مناظر روزانہ نظر آتے ہیں، عوام  کسی  پر بھی مجرم ہونے کا شک کرکے مارپیٹ کرتے ہیں، پولیس اور قانون کا نفاذ کرنے والے ادارے صرف تماشائی ہی بنے رہتے ہیں، جب عوام کے قابو میں آیا ہوا شخص پوری طرح لہولہان ہو جاتا ہے تو پولیس اسے گرفتار کرلیتی ہے، بعد میں تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ عوام کے ہاتھوں لگا شخص تو بے گناہ ہے لیکن کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ بے گناہ پر تشدد کرنیوالوں کو سزا ملی ہو۔

ماضی کی روایات کے برعکس اب عوام، چوروں اور ديگر جرائم کرنے والوں کا منہ کالا کرکے گدھے پر نہيں بٹھاتی، اب تو پہلے ان کی ہڈياں توڑی جاتی ہيں، اگر جان بچ جائے تو قانون کے حوالے کيا جاتا ہے۔ پنجاب کے بڑے شہروں ميں بچوں کے اغواء کے واقعات کے بعد تو مشکوک اور مبينہ اغواء کاروں کو پيٹنا ايک روايت بنتی جارہی ہے، صرف لاہور ميں پچھلے 2 ہفتوں ميں 16 افراد کو اس شبہے ميں پيٹا جاچکا ہے کہ وہ اغواء کی نيت سے کسی آبادی ميں داخل ہوئے تھے، عوام ميں عدم تحفظ کا احساس اتنا بڑھ چکا ہے کہ پوليو کے قطرے پلانے کیلئے اپنے شير خوار بچے کو لیکر جانے والے کو بھی اغواء کاری کے شک ميں دھلائی کردی گئی، پچھلے 10 سالوں ميں کئی ايسے واقعات ہوئے ہيں جن ميں عوام نے مبينہ ملزموں کو پيٹ پيٹ کر مار ڈالا۔

12a

ایک بڑا گھناؤنا واقعہ 15 اگست 2010ء کو سيالکوٹ ميں پيش آيا، جس کے دوران ڈاکو قرار دیکر 2 سگے بھائيوں مغيث بٹ اور منيب بٹ کو عوام نے پہلے خوب پيٹا، پھر پھانسی دی اور بعد ميں ان کی لاشوں کی بے حرمتی بھی کی، 4 نومبر 2014ء کو قصور کے نواحی علاقے کوٹ رادھا کشن ميں ذاتی جھگڑے کو مذہبی رنگ دیکر ايک مسيحی جوڑے شہزاد اور شمع کو اينٹوں کے بھٹے ميں پھينک کر زندہ جلاديا گيا۔

پندرہ مارچ 2015ء کو لاہور کے علاقے يوحنا آباد ميں چرچ پر خودکش حملے کے واقعے کے بعد مشتعل ہجوم نے 2 معصوم نوجوانوں محمد نعيم اور بابر نعمان کو مار پيٹ کر قتل کيا اور بعد ميں زندہ جلاديا، کراچی، فيصل آباد، گوجرانوالہ اور ديگر بڑے شہروں ميں بھی ايسے واقعات تواتر سے ہورہے ہيں، آخر عوام اپنی عدالت ہی کيوں لگاتے ہيں۔

ماہرين نفسيات کے مطابق اغواء اور ديگر جرائم کے بعد پوليس کی طرف سے کارروائی نہ ہونے سے عدم تحفظ کا احساس سے ايسے واقعات جنم ليتے ہيں، رہی سہی کسر ہمارے عدالتی نظام ميں سقم کی وجہ سے پيدا ہوئی ہے، ان واقعات کو ''خود انصافی'' کا نام دیا جائے یا پھر ''عوامی انصاف'' کا، لیکن یہ حقیقت ہے کہ ریاستی اداروں سے مایوس اور انصاف سے محروم افراد میں ماورائے قانون ''انصاف'' کا نظریہ تقویت پکڑ رہا ہے، جب ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصر ہوجائیں تو ریاست کی بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں اور اس طرح کے واقعات معمول بن جاتے ہیں۔

12b

وقت آگيا ہے کہ اربابِ اقتدار اس حقیقت کا ادراک کريں اور عدل اور فوری و تیز انصاف کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرکےعوام کی نظروں ميں اداروں کا اعتماد بحال کريں، اگر حکومت نے انصاف کی فراہمی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہ کئے تو پھر وہ دن زیادہ دور نہیں جب خود انصافی ہی پاکستان کا قانون قرار پائے گی اور ہر فرد مجرموں کو خود سزا دینا چاہے گا۔

خود انصافی يا لنچنگ انسانی تاريخ ميں کوئی نئی بات نہيں، ماضی قريب ميں امريکا سميت مغربی دنيا ميں بھی خود انصافی کا رجحان عام رہا ہے، 19 ويں صدی اور 20 ويں صدی کے پہلی 3 دہائيوں ميں امريکا جيسے ترقی يافتہ ملک ميں بھی چوروں کو درخت کی ہری شاخ کے ساتھ باندھ ديا جاتا تھا،  خشک ہوکر شاخ مجرم کے جسم ميں دھنس جاتي تھي اور وہ مر جاتا تھا ليکن قانون سازی اور انصاف کے نظام کو مضبوط کرنے سے يہ واقعات ختم ہوگئے اور اب مغربی دنيا ميں ايسا واقعہ عرصہ دراز سے وقوع پذير نہيں ہوا۔

پاکستان ميں قانون کی حکمرانی کے بعد خود انصافی کے جن کو بوتل ميں بند کيا جاسکتا ہے۔

PUNJAB

Tabool ads will show in this div