کراچی میں فائرنگ سے آج مزید گیارہ افراد قتل

اسٹاف رپورٹر
کراچی: شہر قائد میں ایک طرف اجلاس پر اجلاس ہو رہے ہیں تو دوسری جانب نہتے شہری قتل کیے جا رہے ہیں۔ اغوا اور گاڑیوں پر حملوں کے بعد اب دفاتر میں بھی لوگوں کو نشانہ بنایا جانے لگا۔
کراچی کے شہریوں کو ایسی آوازوں کا شائد عادی بنا دیا گیا ہے۔ دہشت گردی میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ آج پھر متعدد شہریوں سے مسلح افراد نے جینے کا حق چھین لیا۔ دہشت گرد باآسانی اپنے حدف کو نشانہ بنا کر فرار ہو جاتے ہیں۔
قاتلوں سے متعلق لب کشائی کی کسی میں ہمت نہ ہوئی تو وہ بولا جو طویل عرصے سے خاموش تھا۔  گارڈن میں واٹر بورڈ کے دفتر میں اسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر انواراللہ، ایکسیئن چودھری الطاف، کلرک عارف اور قادر کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔
لاشیں سول اسپتال لے جائی گئیں اور ورثا کو فون پر اطلاع دی گئی۔
گارڈن ہی سے شام کو مزید دو افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ پٹیل پاڑہ میں فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہوا۔ کورنگي ضياء کالوني ميں فائرنگ کا زخمی نويد عباس جناح اسپتال میں دم توڑ گیا۔ شیری جناح کالونی میں بھی نوجوان مارا گیا۔ یہی نہیں لانڈھی، پی آئی بی اور گلشن اقبال سے تین لاشیں بھی ملی ہیں۔ شہریوں نے عوامی نمائندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان پر رحم کریں اور اجلاس پر اجلاس کرنے کے بجائے دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی اور گرفتار افراد کو میڈیا کے سامنے پیش کیا جائے۔ سماء

میں

burger

MQM

سے

premier

فائرنگ

آج

Tabool ads will show in this div