کراچی میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں چونتیس افراد کو موت کی نیند سلادیا گیا

اسٹاف رپورٹر 
کراچی: گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں چونتیس افراد کو موت کی نیند سلادیا گیا۔ جس سے کئی گھرانوں میں عید سے قبل صف ماتم بچھ گیا، لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عملداری کہیں نظر نہیں آ رہی۔  گودھرا میں رینجرز کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔
گودھراں میں  دو مذہبی گروپوں کے درمیان فائرنگ سے تین افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ علاقے میں کشیدگی ہے۔ دکانیں اور کاروبار بھی بند ہوگیا ہے جبکہ رینجرز کی بھاری نفری روائیت کے مطابق واقعے کے بعد علاقے میں پہنچ گئی ہے۔
پولیس اور رینجرز اہلکار تمام اختیارات کے باوجود کسی دہشت گرد کو گرفتار نہیں کرسکے۔ بدھ کو فائرنگ سے جاں بحق ایم کیو ایم کے تین کارکنوں کی نماز جنازہ اورنگی ٹاؤن دس نمبر میں ادا کی گئی۔ ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے ایدھی سردخانے کا دورہ بھی کیا۔  شہر میں روزانہ لوگ اندھی گولیوں کا نشانہ بن رہے ہیں اور اب تو لاشیں ملنے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔
نارتھ ناظم آباد، لانڈھی ایٹی نائن اور اورنگی ٹاؤن میں چار افراد کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ لسبیلہ میں ندی سے تین اور لیاری میں مرزا آدم خان روڈ سے دو لاشیں ملیں۔ بلدیہ ٹاؤن سے سات، ماڑی پور سے دو، شیر شاہ پنکھا ہوٹل کے قریب سے چار، غنی چورنگی سے ایک، لی مارکیٹ اور گارڈن سے تین تین جبکہ سعید آباد اور منگھوپیر سے ایک ایک لاش ملی۔
اس کے علاوہ مختلف علاقوں سے کئی افراد کو اغوا کیا گیا اور گاڑیوں پر فائرنگ کی گئی۔ سماء

میں

کی

burger

MQM

کو

britain

Tabool ads will show in this div