کراچی میں بدامنی میں شدت،مزید12گھر اجڑگئے

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹر
کراچی: سیاسی جماعتوں اور حکومتی کوششوں کے باوجود شہر میں لاشیں گرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ اور اعلیٰ قانون نافذ کرنے والے افسران ابھی تک ملزمان کو گرفتار کرنے سے قاصر ہیں اور سیلمانی ٹوپی پہنے دہشت گردوں کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔

اگست کے پہلے ہی روز فائرنگ اور تشدد کے واقعات میں خاتون سمیت دس  افراد کو ابدی نیند سلا دیا گیا.


ملیر کے علاقے الفلاح کی شمسی سوسائٹی  اور سرجانی میں فائرنگ کے دو زخمی دوران علاج چل بسے۔


پاک کالونی میں دھوبی گھاٹ کے قریب دو افراد کی ہاتھ پائوں بندھی لاشیں ملی ہیں۔


 


 کورنگی میں عوامی کالونی سے بھی ایک شخص کی ہاتھ پائوں بندھی لاش برآمد ہوئی ہے۔ لیاری کے علاقے میرا ناکہ سے بھی بوری بند لاش ملی ہے، بلدیہ ٹائون نمبر پانچ میں گھر پر فائرنگ سے شمس الرحمان اور اس کی اہلیہ سلطانہ بی بی جاں بحق ہوگئے۔


 


 پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہے ۔ گلستان جوہر میں پرفیوم چوک کے قریب فائرنگ سے چالیس سالہ حیات بحق ہوگیا ۔ لانڈھی مانسہرہ کالونی میں ایک شخص فائرنگ کا نشانہ بن گیا۔

میں

burger