سہیل احمدکواوایس ڈی بنانےکافیصلہ کالعدم،حکومتی رضامندی بھی ظاہر

اسٹاف رپورٹر
سپریم کورٹ نے سہیل احمد کو او ایس ڈی بنانے کے فیصلے کو غیرقانونی قرار دے دیا۔جب کہ حکومت نے بھی فیصلے  کو مانتے ہوئے سہیل احمد کو دوبارہ سیکریٹری اسٹبلشمنٹ بنانے کا اشارہ دے دیا ہے۔
اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے سماء سے گفتگو میں کہا کہ حسین اصغر ایک دو روز میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔
چیف جسٹس کے طویل تحریری فیصلے سے پہلے اٹارنی جنرل نےچیف جسٹس کی سربراہی میں چھ رکنی بینچ کو آگاہ کیا کہ گلگت بلتستان حکومت نے متبادل افسر ملنے تک حسین اصغر کی خدمات واپس کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس کوبتایا کہ سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ سہیل احمد کی بحالی سے متعلق ان کی وزیراعظم گیلانی سے دوبارہ ملاقات نہیں ہوسکی۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کے مؤقف کے بعد اپنا طویل فیصلہ تحریر کروایا۔
فیصلے کے ابتدائی حصے میں حکومت کی بہت سی بے قاعدگیوں کا تذکرہ سخت الفاظ میں کیا گیااورزیرغورامورکاحل حکومت پر ہی چھوڑ دیا گیا۔ فیصلے کو نمٹاتے وقت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ سہیل احمد کو او ایس ڈی بنانے کا کوئی قانونی جواز نہیں،انہیں عدالتی حکم پرعمل درآمد کی سزا دی گئی ہے۔سپریم کورٹ کے سخت مؤقف کے بعد وفاق نےحسین اصغر کو حج کرپشن کیس میں تفتیشی افسر مقرر کرنے کا فیصلہ کر لیاہے
دونوں اداروں میں تصادم کا خطرہ ٹل جانے کے بعد وکلا مناسب مشورے دے رہے ہیں۔۔
اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے کہا ہے کہ حسین اصغر ایک دو روز میں دوبارہ حج کرپشن کی تفتیش سنبھال لیں گے۔سپریم کورٹ نے معاملے کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی ہے سماء

ڈی

tharparkar

pregnant

sierra leone

injections

Tabool ads will show in this div