ڈرتے رہو۔۔

yosufgoth2 تحریر:عاقب منیار دس سال پہلے کراچی کے بلدیہ یوسف گوٹھ قبرستان کے قریب سے گزرا تو دوست نے کہا جلدی چلو،  یہاں رات میں کفن پوش لاش گھومتی ہے۔۔دس سال بعد علاقے سے گزرا تو سوچا موبائل سے تصویر کھینچوں، دوست نے کہا موبائل جیب میں رکھو بھائی، لاش نہیں اب چور علاقے میں زیادہ گھومتے ہیں۔ yosufgoth سنا ہے 1970 میں رات گئے کارساز روڈ پر  لال رنگ کا لباس پہنی عورت لوگوں کو نظر آتی تھی،  جس نے ایک ہاتھ میں زیورات اور گلے میں پھولوں کا ہار ڈالا ہوتا اور لوگوں سے لفٹ مانگتی تھی۔ رات کوآفس سے گلشن اقبال واپس گھر جانے والے دوست سے پوچھا، اس جگہ کبھی دلہن نظر آئی تو ہنس کر جواب دیا، دلہن نہیں موٹرسائیکلوں پر سوار اسکے چند رشتہ دار وں نے بہت  بار لوٹا ہے، بھوت سے نہیں صاحب،  چوروں سے ڈر لگتا ہے۔ Hawksbayhuthanuted لوگوں کا ماننا ہے کہ ہاکس بے کا ایک ہٹ ہمیشہ خالی رہتا ہے، رات کو وہاں جنات کی شادیاں ہوتی ہیں اور وہ قریب سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔۔ سنا ہے جنات اس ہٹ کے اطراف تک محدود رہتے ہیں لیکن پھر پکنک کیلئے ہاکس بے جانے والی ان گنت فیملیز کو راستوں میں کون لوٹتا ہے؟ کئی سال پہلے ملیر ندی پل پر خودکشیوں کے کئی واقعات ہوتے تھے، پولیس والوں کو بھی عجیب سے سائے دکھائی دیتے تھے، لیکن اب  چوروں کی ان گنت وارداتوں پر پولیس کی خاموشی عجیب لگتی ہے۔۔ مخصوص اسپتالوں کے مردہ خانوں میں ہونے والے واقعات عام آدمی کو ڈراتے رہے، لیکن جب کسی رشتے دار کے 500 روپے کے علاج پر اسپتال 50ہزار روپے کی رسید بنادے تو پھر کس کو بھوت سے ڈر لگتا ہے۔ سنا ہے لیاری کی سڑکوں پر  زخموں سے چور انسان رات کو گھومتا نظر آتا تھا، کوئی قریب جائے تو غائب ہوجاتا تھا۔۔ یہ مخلوق کئی سال تک دہشت کی علامت بنی رہی لیکن اب سنا ہے لیاری والوں نے اتنا خون خرابہ دیکھ لیا ہے کہ انہیں اب جن سے ڈر نہیں لگتا۔ lyarigangwar سنا ہے کراچی میں اب جن بھوتوں سے کوئی نہیں ڈرتا، رات گئے جن بھوتوں کے اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ انہیں انسانوں کو لوٹنے، مارنے، کانٹنے، جلانے والوں سے ڈر لگتا ہے، یہاں سے چلے جانا بہتر ہے ورنہ یہ بھی لوٹ لیے جائیں گے، چھوٹے جن نے اجلاس میں شعر پڑھ کر کئی جنوں کو رلادیا۔ جنگل میں سانپ شہر میں بستے ہیں آدمی سانپوں سے بچ کے آئیں تو ڈستے ہیں آدمی

LYARI

HAWKSBAY

SAMAA Blog

Phobia

Tabool ads will show in this div