اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا

Jul 30, 2016

Governer State Bank Khi 30-07

کراچی: اسٹیٹ بنک نے ماینٹری پالیسی کا اعلان کردیا ہے۔

 گورنراسٹیٹ بنک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتےہوئے بتایا کہ مالی سال دوہزار سولہ میں پاکستان کی معیشت میں نمایاں بہتری دیکھی گئی اور اوسط سالانہ مہنگائی بلحاظ صارف اشاریہ قیمت (CPI) کم ہوکر47 سال کی پست ترین سطح 2.9فیصد تک پہنچ گئی اور حقیقی جی ڈی پی کی نمو نے آٹھ برسوں کی بلند ترین سطح 4.7فیصد کو چھو لیا۔

انھوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کے زیر تحویل زر ِ مبادلہ ذخائر میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا، آخر جون 2016ء تک یہ ذخائر  18.1ارب ڈالر تھے جو چار ماہ کی درآمدات کے لیے کافی تھے۔بجٹ خسارہ کم کرنے کی حکومتی کوششیں صحیح راہ پر گامزن رہیں اور محاصل کی وصولی توقعات سے زیادہ ہوئی۔

گورنر کا کہنا تھاکہ نجی شعبے کے قرضوں میں خاصی تیزی دیکھنے میں آئی اور معینہ سرمایہ کاری اور جاری سرمائے کے قرضے بڑھ گئے۔ زر ِ وسیع کی نمو قابو میں رہی کیونکہ حکومتی قرض پست رہا۔ اس بہتری کے منظرنامے کو محتاط اندا زمیں جانچتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے مالی سال 16ء میں اپنا پالیسی ریٹ مجموعی طور پر 75بی پی ایس کم کردیا، جو مالی سال 15ء میں کی گئی 300بی پی ایس کی کٹوتی کے علاوہ تھا۔

انھوں نے بتایا کہ معیشت کی اس بہتری میں بیرونی اور ملکی عوامل دونوں کا کردار ہے۔ بیرونی شعبے میں برآمدی نمو میں کمی کے باوجود تیل کی کم قیمتوں، کارکنوں کی بھرپور ترسیلات ِ زر اور سرکاری رقوم کی وافر آمد کی وجہ سے بازارِ مبادلہ مستحکم رہا۔ ملک کے اندر ایف بی آر کے محاصل میں اضافے سے ترقیاتی اخراجات بڑھانے اور ساتھ ہی مالیاتی خسارے کو ہدف کی سطح کے قریب رکھنے میں مدد ملی ہے۔  سماء

Tabool ads will show in this div