پیپلزپارٹی کا عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی سے رابطہ

Nov 30, -0001


اسٹاف رپورٹ
کراچی: کمشنری نظام اور پرانے بلدیاتی نظام کی بحالی پر پیپلزپارٹی سیاسی جماعتوں کی حمایت سمیٹنے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔  اور اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ جماعت اسلامی سے بھی رابطہ کرلیا گیا ہے۔

ایم کیو ایم کا ساتھ چھوٹنے کے بعد، پیپلز پارٹی کے سیاسی رابطوں میں تیزی آگئی ہے۔ فنکشنل لیگ کی صوبائی حکومت میں شمولیت سے۔ حکومت کو اپنی کوششوں میں ایک بڑی کامیابی بھی مل چکی ہے۔

 سندھ حکومت نے کمشنری نظام، ڈویژنز اور اضلاع بھی بحال کر دیئے ہیں۔ جس پر متحدہ قومی موومنٹ کو سخت اختلاف ہے۔ اس معاملے پر مختلف جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے پیپلز پارٹی کافی سرگرم دکھائی دیتی ہے ۔ اسی سلسلے میں ہفتہ کو پیپلز پارٹی کے سینئر وزیر پیر مظہر الحق اے این پی سندھ کے صدر شاہی سید سے ملاقات کرنے مردان ہاؤس پہنچ گئے تھے۔
 
آج پیر مظہر الحق جماعت اسلامی کے رہنماؤں سے کمشنری نظام اور کراچی کے حالات پر بات کرنے ادارہ نور حق جا پہنچے۔ بعد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آمرانہ نظام ختم کرکے کمشنری نظام قائم کردیا ۔ ایم کیوایم سے اپیل ہے کہ مل کر مثبت پالیسی کے تحت چلے۔

ادھر سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن کی رہائش گاہ پر مختلف سیاسی جماعتوں کا غیر رسمی اجلاس ہوا۔ پیپلز پارٹی، اے این پی، فنکشنل لیگ، مسلم لیگ ق، جماعت اسلامی، سنی تحریک اور نیشنل پیپلز پارٹی کے رہنما اجلاس میں شریک ہوئے۔ ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ن کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔ اجلاس میں کمشنری نظام اور اضلاع کی بحالی کے بعد کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اے این پی سندھ کے صدر شاہی سید نے بھی وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ سے ملاقات کی ہے۔ سماء

کا

سے

Malaysia

taiwan

Tabool ads will show in this div