بچوں کو پاکستانی اسکولوں میں نہ بھیجیں، بھارت کی سفارتی عملے کو ہدایت

3

اسلام آباد : بھارت کی ایک اور پاکستان دشمنی، اپنے سفارتی عملے کو پاکستان کے اسکولوں میں نہ بھیجنے کی ہدایت کردی، اسلام آباد میں موجود عملے کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ اپنے بچوں کو واپس بھارت بھیج دیا جائے۔

اطلاعات کے مطابق بھارتی سفارتی عملے کے 60 سے زائد بچے پاکستانی اسکولوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں تاہم اب وہ اپنی تعلیمی سرگرمیاں مزید جاری نہیں رکھ سکیں گے۔

بھارتی اخبار میں ذرائع کے حوالے سے شائع خبر میں کہا گیا ہے کہ پشاور کے اے پی ایس اسکول پر 2014ء میں طالبان کے حملے کے بعد سے بھارت اس حوالے سے سوچ بچار کررہا تھا، فائرنگ کے واقعے میں 132 طلبہ اور اسکول عملے کے 9 ارکان جاں بحق ہوگئے تھے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان گزشتہ چند ماہ سے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں، کشمیر میں جاری بھارت کی حالیہ ریاستی دہشت گردی اور حزب المجاہدین کے نوجوان کمانڈر برہان مظفر وانی کی شہادت کے باعث صورتحال مزید خراب ہوگئی، قابض فورسز نے اس دوان مظاہرہ کرنے والے نہتے شہریوں پر بدترین تشدد کا راستہ اختیار کیا جس میں مزید 50 سے زائد افراد شہید اور ہزاروں زخمی ہوئے۔

بھارت کی جانب سے اپنے سفارتی عملے کے بچوں کو پاکستانی اسکولوں میں نہ پڑھانے کا فیصلہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں مزید کشیدگی کا باعث ہوسکتا ہے۔

بھارتی سفارتی عملے کے تقریباً 50 بچے انٹرنیشنل اسکول آف اسلام آباد میں زیر تعلیم ہیں جو امریکن اسکول کے نام سے جانے جاتے ہیں جبکہ تقریباً 10 بچے دیگر اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں۔ سماء

Islambad

diplomatic staff

Tabool ads will show in this div