ترکی میں ناکام بغاوت کےبعدغیرمعمولی اقدامات

Turkey Pres And Pm Pkg 24-07 Arsalan

[video width="640" height="360" mp4="http://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2016/07/Turkey-Pres-And-Pm-Pkg-24-07-Arsalan.mp4"][/video]

انقرا : ترکی ميں فوجی بغاوت کے بعد صدر طيب اردوان نےملٹری کونسل کا اجلاس فوجی ہیڈ کوارٹر کے بجائے ایوان صدر میں اٹھائيس جولائي کو طلب کرليا۔ترک صدر نے ملک ميں ايمرجنسي کےنفاذ کےبعد گولن تحريک سے تعلق کے شبے بعد ہزاروں اسکول،خيراتي ادارے،فاؤنڈيشن اور ٹريڈيونينز کو بند کروا ديا ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی کےمطابق ترک صدر کا کہنا ہےکہ فوجي بغاوت حکومت کےعلاوہ مسلح افواج کےخلاف بھي تھي۔ ترک صدرکاکہنا تھاکہ ناکام بغاوت  کےبعدترکي اک نئے دور ميں داخل ہوگيا ہے۔ صدر طيب اردوان نے بتایا کہ مسلح افواج کی تنظیم نوکرتے ہوئے اس ميں نئےخون کو شامل کیا جائے گا۔

ترک وزيراعظم بن علي يلدرم نے کہاکہ ناکام فوجي بغاوت کے بعد ملک ميں نافذ ايمرجنسي ميں توسيع کا کوئي ارادہ نہيں ہے تاہم ضرورت پڑنے پراس ميں اضافہ کيا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بغاوت ميں حصہ لينے والے صرف چند لوگ يونان فرار ہوگئے ہيں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خصوصي صدارتي محافظوں کے ادارے  کوختم کرنےکا بھي ارادہ رکھتي ہے۔

ترکی میں 123جنرلز،282پوليس افسران،15سوججزوپراسيکيوٹرزکےمقدمےزيرالتواہيں۔ ان کی حراست کا دورانیہ چاردن سےبڑھا کرتيس دن کرديا گیا ہے۔

فتح اللہ تنظيم سےتعلق رکھنےوالےملازمين کوفارغ کرناشروع کردياگیاہے۔امريکا ميں مقيم باغي رہنما فتح اللہ گولن کے قريبي ساتھي اور بھتيجے کوانقرہ ميں گرفتار کرليا گيا جبکہ  تين سو صدارتي گارڈ بھي پکڑے گئے ہیں۔   سماء

world news

failed coup

Tabool ads will show in this div