خوشی سے مرنہ جاتے۔۔

Jul 21, 2016

Garbage Khi Pkg 20-07 Ayaz

تحریر: شہربانومعیزعلی

بس تین دن ہیں آپ کے پاس کراچی کو غور سے دیکھ لیں ۔ پھر یہ مناظر ڈھونڈے سے بھی نہ ملیں گے ۔ کراچی کی سڑکیں شیشے کی طرح چمچمائیں گی ۔ پیدل چلنے والے اپنی قسمت پر نازکریں گے ۔ گلیوں کی خوبصورتی دیکھ کر تو وینس کی نہریں بھی عش عش کراٹھیں گی ۔  ہرشاہراہ ہر محلے ہر گلی کے نکڑ پر جہاں ابھی کوڑے کا ڈھیرہے ۔ وہاں خوشبودار گلابوں سے مہکتے گلدان شہریوں کا استقبال کریں گے ۔ نالوں میں بارش کا شفاف  پانی تیرے گا ۔ کوئی بچہ کھیلتے ہوئے ڈوب بھی گیا تو ڈھونڈنا مشکل نہ ہوگا۔ منہ زور گٹروں کی تو زبان ہمیشہ کے لئے بند کردی جائے گی ۔ پھر کبھی راہ گیروں کا راستہ روکنے کی ہمت نہ ہوگی ۔ سڑکوں پر نہیں نلکوں میں پانی ملے گا اور وہ بھی صاف ۔

sometimes-useful-things-can-be-found-amongst-the-rubbish-these-children-sift-through-garbage-along-the-railway-tracks-for-recyclable-materials-in-karachi-pakistan

آپ مذاق سمجھ رہے ہیں؟ ارے بھئی سائیں نے کراچی کو دبئی بنانے کا خواب دیکھا، نیند سے بیدار ہوئے اور  کشمنر کے نام آرڈر جاری کردیا ۔ "تین دن میں شہرصاف کرو ورنہ گھر جاؤ" ۔عمر کا تقاضہ کہیں یا پھر غیر سنجیدگی کی انتہا ، جالے لگے  سالڈ ویٹسٹ مینجمنٹ بورڈ کو  فعال کرنا ہی بھول گئے ۔ وزیربلدیات اور کمشنر کراچی نے تو پہلے ہی سائیں کے مذاق میں  حصہ دار بننے سے انکار کردیا ۔ حکم نامے سے ہی مکر گئے ،بولے  وزیراعلیٰ نے تو صرف ڈسٹرکٹ ساؤتھ کی بات کی ہے ۔ روزانہ پندرہ ہزار ٹن کچرا جمع ہوتا ہے ، پہلے سے موجود انبار کیا کم ہے ؟ الہ دین کا جن بھی  ہو تو تین دن میں یہ کام ممکن نہیں ۔

233840-GarbagePHOTOMUHAMMADJAVAID-1313608166-560-640x480

"شاہ جی تسی وی بڑے مذاقی او"۔ سندھ سرکار کا کراچی والوں سے ہاتھ کےبعد مذاق ہی تو ہے جس کی ملک بھر میں دھوم ہے ۔ لافٹر چیمپئن شپ میں صرف سائیں سرکار ہی نہیں اپنوں کی بھی بہترین پرفارمنس رہی ہے ، جب کمال نے پارٹی صفائی شروع کی تو اپنوں نے بھی جھاڑو پکڑ لی ،کراچی صاف کرو کا نعرہ لگایا پھر توجا میں آیا ، سڑکوں پر تماشہ لگا ، کراچی والوں کی تفریح کا سامان ہوا، مذاق مذاق میں کیمرے کے سامنے جو کچرا گندی گلی سے اٹھا وہ صاف سڑک پر سجا اور تین دن میں ڈارمہ بند ہوگیا ۔

ALAMGIR GARBAGE KHI PKG ALI 09-02

ایک در بند ہوتا ہے تو دس کھلتے ہیں ،لیکن یہاں تو کھلے ہوئے گٹرکے ڈھکن بند کرنے والی فکس اٹ مہم پہلے سے موجود تھی ۔ جھٹ پٹ نیا اسکرپٹ لکھا اور اسٹیج پرنمودار ہوگئی ۔ اس بار وزیر اعلیٰ کی تصویر نہیں گھر نشانے پر تھا ۔ کچرا ڈالنے کی دھمکی دی ،ٹرالی میں چابی بھری اور وزیراعلیٰ ہاؤس کا رخ کیا ۔ تماشہ  بیچنے کے شوقین بھی کیمرے لئے پیچھے آگئے ۔ چھوٹی اسکرین پر خوب منجن بکا جب تماشائی بور ہوئے تو آشتہار بدل گیا ، پروڈکٹ کچرا لیکن پروڈکشن عام ادمی کی ۔ کوڑے کے ڈھیر پر فلم بنی کمپنی کی تشہیرہوئی ۔ لافٹر شو میں انٹری ملی اور آئندہ "صفائی مذاق پروگرام "میں  شرکت کی امید کا اظہار کرتے ہوئے اصل دھندے کی راہ لی ۔

سائیں سے لے کر عام آدمی تک سب کی پرفارمنس اس قدر شاندار کہ دعوؤں پردل ہارنے کا جی چاہے لیکن کراچی والے یہ کہنے پر مجبور ہیں۔

تیرے وعدے پہ جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

cm sindh

commissioner karachi

Tabool ads will show in this div