ناکام فوجی بغاوت پر ترک قوم کو سلام

TURKEY-COUP-MILITARY-POLITICS-PROTEST

"خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی، نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا"

جی بالکل، یہ ہے وہ قوم جس نے گزشتہ دنوں دنیا کی تاریخ بدل ڈالی، جمہوریت پر شب خون مارنے والی فوجی بغاوت کو اپنے ہاتھوں سے کچل ڈالا اور مارشل لاء کا نفاذ روک دیا۔ فوجی بغاوت کو روکنے کےلئے ترک عوام کو اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کرنا پڑا اور اسکے لئے سینوں پر گولیاں بھی کھائیں لیکن ترک قوم سرخرو ہوگئی اور تاریخ رقم کردی۔ اسلام پسند ترک عوام نے فوجی بغاوت کی سازش کو ناکام بناتے ہوئے مغربی ممالک پر اپنا پیغام بھی واضح کردیا کہ یہ کمال اتاترک کا ترکی نہیں بلکہ اردوان کا ترکی ہے جہاں لبرل ازم یا سیکولرازم کی بالادستی نہیں بلکہ اسلام کی حکمرانی ہے۔

اکیسویں صدی کے دوران یہ پہلا ایسا واقعہ ہے جس میں کسی قوم نے فوجی بغاوت کو اپنی جانوں کا نزرانہ پیش کرکے روکا ہو کیونکہ اس صدی کے دوران ہی دنیا کی دیگر اسلامی ریاستوں میں جمہوریت پر شب خون مارا گیا اور آمریت کامیاب ہوگئی۔ سال 2013 کے وسط میں مصر کی منتخب حکومت کے ساتھ بھی فوج نے بغاوت کی اور جنرل عبدالفتاح السیسی کے حکم پر مصری فوج نے صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو ان کے منصب سے ہٹا کر گرفتار کرلیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ ملک میں مارشل لاء اور کرفیو کا نفاذ کرکے صدر مرسی اور جمہوریت کی بقا کےلئے سڑکوں پر نکلنے والے ہزاروں افراد کو موت گھاٹ اتار دیا گیا۔ مصری فوج نے کسی پر رحم نہ کیا اور خواتین، بچوں سمیت کئی افراد کے سینوں کو گولیوں سے چھلنی کردیا۔ عوام پر ٹینک چڑھا دیے گئے اور بیرونی طاقتوں کی جانب سے عطا کیا گیا ہر قسم کے اسلحہ کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔

TURKEY-POLITICS-MILITARY-COUP-DEMO

دونوں ممالک کی فوجی بغاوت میں فرق یہ تھا کہ ترکی میں بغاوت فوج کے ایک گروہ کی جانب سے گئی یعنی کے منظم انداز میں فوجی بغاوت نہیں ہوئی بلکہ تقسیم ہوگئی اور سب سے بڑی ناکامی یہ کہ باغی ٹولہ ترک صدر رجب طیب اردوان یا وزیراعظم بن علی یلدرم کو گرفتار نہیں کرسکا، جبکہ اسکے برعکس مصر میں ہونے والی فوجی بغاوت بلکل مختلف تھی۔ یہ بغاوت براہ راست جنرل عبدالفتاح السیسی کے حکم پر کی گئی جس کو بیرونی طاقتوں کی مکمل حمایت حاصل تھی اور امریکا، برطانیہ، روس، سعودی عرب سمیت کئی عرب ممالک نے مالی امداد بھی کی۔ لیکن حالیہ بغاوت پر ترک قوم کو سلام پیش کیا جانا چاہیئے جنہوں نے دنیا میں وہ کر دکھایا جو مصری عوام نہ کرسکی۔ ترک عوام نے صدر کی آواز پر لبیک کہا اور سڑکوں پر نکلنے والے لاکھوں افراد نے باغی فوج کو ناک و چنے چبوا دیے۔ ترک عوام ٹینکوں پر چڑھ گئے، فوج سے اسلحہ چھین لیا گیا، پولیس نے جمہوری حکومت کا ساتھ دیتے ہوئے باغی فوجی اہلکاروں کو گرفتار کرلیا۔ ملک میں جہاں جہاں باغی فوج کے اہلکار پہنچے وہی ان کو عوام سے زبردست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس طرح ترک عوام نے ملک کو فوجی بغاوت سے بچا لیا۔ ترک قوم کو اکیسویں صدی کی تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ لازوال قربانیوں پر ترک قوم کو سلام پیش کیا جانا چاہیئے۔

turkey2

خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد ترکوں کو وقتا فوقتا تین سے چار مرتبہ فوجی مداخلت کا سامنا کرنا پڑا۔ فوجی دور حکومت میں ملک کی بیشتر عوام لبرل ہوگئی کیونکہ قوانین ہی ایسے بنائے گئے تھے اور دین اسلام کو حکومتی معاملات سے مصطفی کمال پاشا اتاترک کے زمانے سے ہی بے دخل کردیا گیا تھا لیکن جمہوری حکومتوں خصوصا رجب طیب اردوان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک میں اسلام کا پرچار زیادہ ہونے لگا ہے۔ بہرحال ترکی میں فوجی بغاوت کی نکامی کے بعد سے ہزاروں اہلکار اور ججز کو سازش میں ملوث ہونے کے جرم میں گرفتار کیا جاچکا ہے اور صدر اردوان نے اسکا الزام امریکا میں مقیم فتح اللہ گولن پر لگایا ہے، جبکہ اس تناظر میں ترکی میں داعش کیخلاف استعمال ہونے والا امریکی ہوائی اڈا بھی سیل کردیا گیا ہے۔ یقینا ترک حکومت اس سازش کی جڑ تک جلد پہنچ جائے گی لیکن فوجی بغاوت کو روکنے کے معاملے میں ترک قوم، پولیس اور جمہوریت پسند فوج کو سلام پیش کیا جائے۔

Rajab Tayyip Erdogan

failed coup

Tabool ads will show in this div