چینی زبان سیکھیں ، دولت کمائیں

pak china1

تحریر: نسیم خان نیازی 

چین کے ساتھ پاکستان کی دوستی ہمالیہ سے اونچی اور سمندر سے گہری ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں اور ان تعلقات بہتر بنانے کےلیے ضروری ہے ہم ان کی زبان سیکھیں ۔ اب وقت ہے کہ ہم اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرتے ہوئے روایتی غلامی سے باہر نکلیں اور نیا لائحہ عمل بنائیں ۔ چینی زبان بولنے اور سمجھنے والوں کےلیے مستقبل میں لاتعداد مواقع موجود ہیں جن کا شائد ہمیں فی الحال ادراک نہیں  ۔ بین الاقوامی منظرنامے پر چین کے نمایاں ہوتے کردار اور خاص طور پر خطے میں اس کے اثرات کو دیکھتے ہوئے اہل پاکستان کےلیے اپنے دوست ملک کی زبان سیکھنا ترقی کی بنیاد ثابت ہوسکتا ہے ۔ چین کے ساتھ پاکستان کی تجارت تو پہلے ہی جاری ہے مگر اب چین پاکستان راہداری منصوبے کے تناظر میں روزگار کے بے شمار مواقع پیدا ہونے جارہے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب چینی زبان پر عبور رکھنے والوں کی چاروں انگلیاں گھی میں ہوں گی ۔

چین کی سرکاری زبان مینڈا رین ہے اور یہ اقوام متحدہ کی چھ آفیشل زبانوں میں سے ایک ہے ۔ اقوام متحدہ کی دیگر پانچ آفیشل زبانوں میں انگریزی ،عربی   فرانسیسی ، روسی اور اسپینش شامل ہیں ۔ چین کی حکومت خود بھی ایک مربوط حکمت عملی کے تحت دنیا بھر میں اپنی زبان یعنی مینڈا رین سکھانے کےلیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے ۔ انہی کوششوں کی بدولت پاکستان میں بھی محدود پیمانے پر چینی زبان کو فروغ حاصل ہورہا ہے مگر اس کا لیول وہ نہیں جو ہونا چاہیے ۔

pak china12

بہت سے ملکوں کو چینی زبان سکھانے پر چین اربوں یوآن سالانہ خرچ رہا ہے ۔ بہت سے ایسے افریقی ممالک ،جہاں چین نے بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رکھی ہے ،وہاں تو ہر سال سینکڑوں چینی استادوں کو بھیجا جاتا ہے جو وہاں جا کر چینی زبان کے مقامی استاد تیار کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ چینی حکومت بہت سے ملکوں کے طلباء کیلئے وظائف مہیا کرتی ہے کہ وہ چین جائیں اور چینی زبان سیکھیں ۔ ایسے تمام طلباء جو چین میں اعلی تعلیم کے حصول کیلئے جاتے ہیں ان کے لئے سال چھ مہینے کا چینی زبان کا نصاب لازمی ہوتا ہے ۔

اہل پاکستان کےلیے یہ بات شائد حیران کن ہوگی کہ چینی زبان سیکھنے کی دوڑ میں امریکہ بھی شامل ہے کیونکہ اسے مستقبل میں چینی کردار کی اہمیت کا ادراک ہے ۔ امریکی حکومت نے 2020 ء تک دس لاکھ امریکیوں کو چینی زبان سکھانے کا پروگرام شروع کررکھا ہے ۔ صدر اوباما کی بیٹی اور فیس بک کے مالک مارک زکر برگ کی جانب سے چینی زبان سیکھنے کے بعد امریکیوں میں اس زبان کی جانب دلچسپی بڑھی ہے مگر پاکستان میں ہم ایسی کوئی سرگرمی نہیں دیکھ رہے جس سے لوگوں کو چینی زبان کی جانب مائل کیا جاسکے ۔ سوچنے کی بات ہے کہ فیس بک کا مالک اگر چینی زبان سیکھنے کےلیے ٹائم نکال سکتا ہے توبیروزگاری کا شکوہ کرنے والے پاکستانی نوجوان ایسا کیوں نہیں کرسکتے ؟

chinapakflagreutersimage650_650x400_71454909825

پاکستان میں حکومت کی جانب سے کئی بار یہ اعلان تو کیا گیا کہ ملک میں چینی زبان کو فروغ دیا جائے گا مگر عملی طور پر ایسا ممکن نظر نہیں آرہا  ۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں چینی زبان جاننے والوں کی تعداد تقریباً پانچ ہزار ہے اور وہ بھی ایسے لوگ ہیں جن کا چین کے ساتھ واسطہ رہتا ہے ۔ حکومت کےلیے ضروری ہے کہ کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر چینی زبان سکھانے کا عمل تیز کرے اور متعلقہ اداروں کو زیادہ سے زیادہ وسائل مہیا کئے جائیں۔

چین کی ایک کامیابی یہ ہے کہ اس نے ہر طرح کی ویب سائٹس کو چینی زبان میں متعارف کرایا ہے ۔  گوگل جیسی تحقیقی ویب سائٹ سے لے کروکی پیڈیا جیسی معلوماتی ویب سائٹ تک اور فیس بک جیسی سماجی رابطے کی ویب سائٹ سے لیکر یاہو اور جی میل جیسی ذاتی رابطے کی ویب سائٹ تک ، ہر طرح کی انٹر نیٹ کی سہولتیں ایک عام چینی کو اپنی زبان میں میسر کی گئی ہیں اور پھر یہ تمام سہولتیں چین کے اپنے دائرہ اختیار میں ہیں ۔ کوئی دوسرا ملک اس سے یہ سہولتیں واپس نہیں لے سکتا ۔ پاکستانی اگر چینی زبان سیکھیں تو یقیناً ایک نئی دنیا ان کی منتظر ہوگی ۔

CHINA

Mandarin

regional languages

Tabool ads will show in this div