دینی مدرسے میں بدترین انسانیت سوزتشدد،دہشتگردی کی تربیت دینےکاانکشاف

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ
کراچی : ملک میں کچھ مدارس ایسے بھی ہیں جو علم سکھانے کے مراکز کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں۔


ایسا ہی ایک مدرسہ کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں واقع ہے جہاں سماء کی خبر پر  پولیس نے  چھاپہ مارکر تہہ خانے سے زنجیروں میں جکڑے پینتالیس بچے بازیاب کرالئے ہیں۔

سماء کی ٹیم کے پہنچنے پر بچوں نے خود پر بیتنے والے مظالم کی داستانیں سنائیں۔ نوجوان اور بچے دینی تعلیم کیلئے کراچی میں سہراب گوٹھ کے مدرسے پہنچے تھے۔


انہیں کیا معلوم تھا کہ وہاں ڈنڈے اور زنجیریں ان کی منتظر ہوں گی۔ ان کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جائے گا۔ 

مدرسے کے طلبہ پر مظالم اور انہیں زنجیروں میں جکڑ کر قید رکھنے کی خبر سماء پر نشر ہوتے ہی انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی۔


سماء کی نشان دہی پر پولیس نے مدرسے پر چھاپہ مارا اور تہہ خانے میں قید پینتالیس بچے اور نوجوان بازیاب کرالئے۔


جن کا تعلق پنجاب اور خیبرپختونخوا سے ہے۔ ایک طالب علم نے انکشاف کیا کہ طلبہ کو دہشت گردی کی تربیت دی جاتی تھی۔

طلبہ نے بتایا کہ ان کے بہت سے ساتھی کئی ماہ سے تہہ خانے میں قید تھے۔


ان پر مختلف طریقوں سے تشدد کیا جاتا اور گھر والوں سے ملنے کی بھی اجازت نہیں تھی۔


چھاپے کے دوران مدرسے کا منتظم مفتی داؤد فرار ہوگیا لیکن اس کے ساتھی قاری عثمان سمیت دو افراد دھر لئے گئے۔

گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے سماء کی رپورٹ دیکھ کر آئی جی سندھ کو مدرسے پر چھاپہ مارنے اور مکمل تحقیقات کی ہدایت کی تھی۔


گورنر سندھ کا کہنا ہے مدارس علم و دانش کے مرکز ہیں۔ ان کا تقدس ہر صورت بحال کرایا جائے گا۔ سماء

میں

کی

bugti

Tabool ads will show in this div