
[video width="640" height="360" mp4="http://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2016/07/Kashmir-Upd-Pkg-13-07.mp4"][/video]
سری نگر : مقبوضہ ماضي کے ڈوگرا حکمران اور موجودہ بھارتي انتظاميہ کيخلاف احتجاج کي کال دينے پر سيد علي گيلاني اور مير واعظ عمر فاروق کو گرفتار کرليا گيا، قابض فوج کي جانب سے مقبوضہ وادي ميں اب تک چونتيس افراد شہيد کيے جاچکے ہيں۔
عوام کے خون سے ہولي کھيلنے والي بھارتي انتظاميہ نے حريت قيادت کو ہدف بناليا، حريت رہنماؤں نے 13جولائي کو ڈوگرا راج کے مظالم کيخلاف مارچ کي کال دي تھی، جسے دبانے کيلئے مقبوضہ وادي ميں کرفيونافذ کرديا گيا۔
کرفیو کے باوجود حريت قيادت حاميوں کے ہمراہ باہر نکلي،1931ميں ڈوگرا سرکار کي جانب سے 22کشميريوں کي شہادت پر صدائے احتجاج بلند کي تو سيد علي گيلاني اور مير واعظ عمرفاروق کو گرفتار کرليا گيا، جب کہ پام پور کپواڑہ اور اننت ناگ ميں قابض فورس کي جانب سے سخت کرفيو نافذ ہے۔
تشدد پر بين القوامي توجہ دلانے کيلئے مير واعظ عمر فاروق نے اقوام متحدہ کو خط لکھا،عالمي برادري سے اپيل کي گئي کہ بھارتي مظالم رکوانے ميں کردار ادا کرے۔ سماء