رب کب بہلتا ہے

Dua Pkg 2100 Baig 04-12

تحریر: سیدہ سعدیہ 

اعمال کی آزادی انسان کی فضیلت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ رب نے روشنیاں اور اندھیرے چھانٹ کر الگ کر دیے۔ پھر انسان کو علم بخشا اور صلاحیت دی کہ وہ اپنے لیے جو چاہے منتخب کرے ۔اچھائی اور برائی کی تفریق اس قدر واضح رکھی کہ منتخب کرنے والا کسی شک وشبے کاشکار نہ ہو ۔ مگر انسان میں صرف برائی یا اچھائی منتخب کرنے کی ہی صلاحیت نہیں ہوتی بلکہ وہ یہاں تک آزاد ہے کہ برائی کو اچھائی کا ملمع پہنا سکتا ہے ۔اچھائی اور برائی تو دو واضح فرق کرنے والے پیمانے ہیں ، ان دو کے بیچ انسان نے اپنے لیے منافقت ، ریاکاری اور دھوکے بازی کا ایک نیا راستہ بنا رکھا ہے۔ہاتھ میں تسبیح کے دانے گردش کر رہے ہوتے ہیں ، ہر بات میں اللہ کا ذکرہوتا ہے اور جب کوئی گاہک کچھ خریدنے آ جائے تو کم تولا جاتا ہے ، دو نمبر مال ایک نمبر مال کی قیمت پر بیچا جاتا ہے ، زیادہ منافع کمانے کے لیے جی بھر کر ملاوٹ کی جاتی ہے، پھر راتیں سجدوں میں گزاری جاتی ہیں اور ذکر کی محفلوں میں بیٹھ کر رب کو راضی کیا جاتا ہے ۔ زکوة اورفطرانہ کاخاص اہتمام کیا جاتا ہے ، مگر اس بات کو چھپا لیا جاتا ہے کہ یہ رقم بینک سے حاصل ہونے والے منافع سے ادا کی گئی اور حیرت اس بات پر کہ اس اداکردہ زکوة اورفطرانہ سے ثواب کی اٰمید بھی رکھی جاتی ہے۔ ثواب سے چند دن پہلے کا ایک قصہ یاد آیا ، کچھ دن پہلے ہماری کام والی بتا رہی تھی کہ اٰسے کسی نے چند ہزار زکوة دی، جب وہ ان پیسوں سے خریداری کرنے گئی تو ہ دکاندار نے اٰسے بتایا کہ سارے کرنسی نوٹ جعلی تھے، اس پر جب وہ یہ پیسے تقسیم کرنے والوں کے پاس لے کر واپس گئی تو اٰنھوں نے وہ نوٹ اٰس کے ہاتھ سے واپس لیتے ہوئے اٰسے دوبارہ وہاں آنے سے منع کرتے ہوئے کہا کہ وہ نمک حرا م اٰن پر سنگین الزام لگا رہی ہے۔ اس صورت حال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم اچھائی اور نیکی کمانے کے لیے کس قدر بیتاب ہیں کہ ثواب کے چکر میں ہم حلال اور حرام میں تمیز ہی کھو دیتے ہیں ۔یہ ثواب لینے کے علاوہ یہ چرچا بھی عام ہے کہ رمضان ایثار کا مہینہ ہے ۔

epa02787026 Displaced people from Chamarkand and Alingar areas of volatile Mohmand tribal region, where Pakistani Army has been engaged in an offensive against Islamic militants, prepare to return to their villages at a refugee camp, in Mohmand tribal region, Pakistan, 20 June 2011.  Mohmand tribal region is a known boiling point of local and foreign militants whom security forces have launched a campaign against them.  EPA/AFZAL SHAH

اس ایثار کے چکر میں لوگ دن بھر بھوکے پیاسے رہتے ہیں ، افطاری کے لمحوں میں شاید یہ جذبہ عروج پر پہنچ جاتا ہے، جب دسترخوان انواع واقسام کے کھانوں سے بھرا ہوتا ہے اور محتاجوں کو چن چن کر صرف وہی چیزیں بھیجی جاتی ہیں جو پچھلے دن بچ گئی ہوں یا خراب ہو گئی ہوں ۔ اس پر انتہا یہ کہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا جاتا ہے تم تو مانگنے کے عادی ہو ، اس ایثار کی کیفیت میں کم ہی یہ کوشش کی جاتی ہے کہ جو لوگ کھانے سے محروم ہیں، اٰن کے گھروں میں باقاعدہ کھانا پہنچا دیا جائے ۔ایثار کا ایک اور منظر جو بہت عام ہے وہ افطار پارٹیز ہیں ، اہل نظر گواہ ہیں افطار پارٹیز میں شامل لوگ مستحقین کی فہرست میں نہیں آتے، جو حقیقت میں حقداروں کی فہرست میں آتے ہیں اٰنھیں قریب پھٹکنے نہیں دیا جاتا ۔غرض یہ کہ ایثار کا مہینہ اپنے لیے بہترین کھانا مہیا کرنے میں گزرجاتا ہے۔

Kararay Note Isb Pkg  04-07-01 اپنی برائی کو اچھائی ثابت کرنے کے لیے عجیب و غریب فلسفہ اپنایا جاتا ہے ، فلسفہ کی منطق یہ ہوتی ہے کہ رب کو راضی کیا جا رہا ہے ۔سود کے پیسے اور جعلی نوٹوں کی زکوة سے ، بچا کچھا باسی کھانا غریبوں میں بانٹ کر ، اپنے لیے کئی ہزار کی خریداری کرنے کے بعد چند سو روپے کسی غریب کو دے کر ، گویا رب کوراضی کرنا کسی ایسی ہستی کو راضی کرنا ہے جس کا کام صرف ظاہری عمل کی پرکھ ہے۔  نہ جانے کیوں ہم بھول جاتے ہیں کہ ہمارے خوش رنگ دکھنے   والے اعمال کبھی رب کی خوشنودی کا سبب نہیں بن سکتے۔ہمیں مخلوق خدا کے دکھوں کا احساس نہ ہو، رب کی رضا بھوک پیاس میں تو نہیں، افطار پار ٹیوں میں بھی نہیں ، کسی کو حقیر سمجھ کر چند سو روپے کی خیرات دینے میں بھی نہیں۔ رب کی رضا تو لوگوں کے دلوں کی تسکین میں ہے ، بھوکے کو کھانا کھلانے میں ہے ناداروں کی ضروریات پوری کرنے میں ہے ، اٰن لوگوں کو عید کی خوشیوں میں شامل کرنے میں ہے جو کچھ خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ وہ تو دلوں کے حال جانتا ہے ، وہ بہلائے جانے سے کیونکر راضی ہو گا۔ اسے حقیقت میں منانے کی کوشش کی جائے کیونکہ کھوکھلے اعمال کی خوبصورت پیکنگ سے اٰس کو بہلانا ناممکن ہے۔

mankind

Tabool ads will show in this div