اپنے ہاتھوں سے اپنی قبر تیار کرنیوالے ایدھی صاحب

Jul 10, 2016
Peoples gather around the dead body of renowned social worker Abdul Sattar Edhi, before the funeral ceremony in Karachi on July 9, 2016.
A gloomy Pakistan on July 9 bode farewell to its national hero Abdul Sattar Edhi, the founder of the country's largest welfare organisation who died July 8 in Karachi aged 92.
 / AFP PHOTO / RIZWAN TABASSUM
Peoples gather around the dead body of renowned social worker Abdul Sattar Edhi, before the funeral ceremony in Karachi on July 9, 2016. A gloomy Pakistan on July 9 bode farewell to its national hero Abdul Sattar Edhi, the founder of the country's largest welfare organisation who died July 8 in Karachi aged 92. / AFP PHOTO / RIZWAN TABASSUM
Peoples gather around the dead body of renowned social worker Abdul Sattar Edhi, before the funeral ceremony in Karachi on July 9, 2016. A gloomy Pakistan on July 9 bode farewell to its national hero Abdul Sattar Edhi, the founder of the country's largest welfare organisation who died July 8 in Karachi aged 92. / AFP PHOTO / RIZWAN TABASSUM

کراچی : عبدالستار ایدھی گجرات کے علاقے بانٹوا میں پیدا ہوئے اور اپنے مسلمان خاندان کے ساتھ 1947ء کے پرتشدد بٹوارے کے دوان پاکستان منتقل ہوئے، انہوں نے فلاحی کاموں کی بنیاد عطیات کے ذریعے رکھی جس کا مقصد منشیات کے عادی افراد، مظلوم خواتین، بچوں اور معذور افراد کی مدد کرنا تھا۔

معروف سماجی رہنماء نے ہمیشہ سادہ زندگی گزاری، لمبی سفید داڑھی اور کالی ٹوپی ان کی پہچان بنی، وہ غریبوں کے مسیحا بنے تاہم مسلمانوں کو اقلیتوں پر فوقیت دینے سے انکار پر انہیں چند مذہبی حلقوں کی جانب سے تنقید اشتعال کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

عبدالستار ایدھی نے ہمیشہ بنیاد پرست اسلامی گروہوں کی جانب سے شہریوں پر حملوں کی مذمت کی، نااہلی اور کرپشن پر حکومت پر تنقید کی جبکہ ٹیکس ادا نہ کرنے والے امیر طبقے کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔

عبدالستار ایدھی کی قائم کردہ ایدھی فاؤنڈیشن نے گزشتہ سال 2 کروڑ سے زائد نفوس پر مشتمل شہر کراچی میں شدید گرمی کی لہر کے دوران امدادی کاموں میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔

عبدالستار ایدھی کی نماز جنازہ گزشتہ روز کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں ادا کی گئی جو 1988ء میں سابق صدر جنرل ضیاء الحق کے بعد ریاستی سطح پر منعقد کی گئی پہلی نماز جنازہ تھی جس میں صدر مملکت ممنون حسین، آرمی چیف جنرل راحیل شریف سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان، ڈی جی آئی ایس پی آر، کور کمانڈر کراچی، گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ، وزیراعلیٰ پنجاب، تقریباً تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی، تاہم کچھ حلقوں نے حکومت کی جانب سے آخری رسومات کے انعقاد کے طریقہ کار پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔

3a

سماجی خدمات کے سب سے بڑے نام عبدالستار ایدھی کو کئی سال قبل ان کے اپنے ہاتھوں سے کھودی گئی ایدھی ولیج کی قبر میں انہی کپڑوں میں دفن کیا گیا جن میں ان کا انتقال ہوا۔

سوشل میڈیا پر ایک خاتون نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ افسوسناک امر ہے کہ عبدالستار ایدھی اور عام لوگوں کے درمیان رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں، ریاست ایدھی صاحب کے نظریے اور ان کے کام کے مقصد کو سمجھنے میں بدستور ناکام رہی۔

آنکھوں کا عطیہ

عبدالستار ایدھی ان 2 ہزار افراد میں شامل ہیں جنہوں نے انتقال کے بعد ایس آئی یو ٹی میں اپنے اعضاء عطیہ کرنے کا اعلان کیا گیا، اسپتال ذرائع کے مطابق ان کے خاندان نے ایدھی صاحب کی دونوں آنکھیں عطیہ کرکے غریبوں کے اس مسیحا کی وصیت پوری کی۔

ایس آئی یو ٹی حکام کے مطابق ایدھی صاحب کی تدفین والے روز ہی دو انتہائی مستحق افراد کو آپریشن کے ذریعے ان کی آنکھیں لگادی گئیں۔

Pakistani activist for female education and Nobel Peace Prize laureate Malala Yousafzai listens to speakers at an event to commemorate the Peshawar school massacre in Birmingham, north England on December 14, 2015. On December 16, 2014 Taliban gunmen coldly slaughtered more than 150 people, most of them children, at an army-run school in Peshawar. AFP PHOTO / PAUL ELLIS / AFP PHOTO / PAUL ELLIS

نوبل انعام کا مطالبہ

غریبوں کے سچے مسیحا، معذوروں، لاوارثوں اور بے آسرا خواتین کے اس حقیقی ہمدرد کی انسانیت کیلئے خدمات کے اعتراف کیلئے ملالہ یوسف زئی سمیت کئی شخصیات نے عبدالستار ایدھی کو نوبل ایوارڈ دینے کا مطالبہ کیا۔

بی بی سی کو اپنے انٹرویو میں نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے عبدالستار ایدھی کو عظیم شخصیت قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ ایدھی صاحب نے اپنی زندگی دوسروں کی زندگیاں بچانے اور خوشی بانٹنے میں صرف کی، یہی وجہ ہے کہ وہ دوسروں کیلئے مثالی شخصیت ہیں، میں نے ان جیسا کوئی نہیں دیکھا۔

ملالہ نے ایک بار پھر عبدالستار ایدھی کو نوبل ایوارڈ سے نوازنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ میں نوبل انعام یافتہ ہونے کی حیثیت سے یہ حق رکھتی ہوں کہ کسی کو بھی اس ایوارڈ کیلئے نامزد کروں اور میں اس کیلئے عبدالستار ایدھی کو نامزد کرتی ہوں۔ سماء

Tabool ads will show in this div