میمو گیٹ اسکینڈل سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں جاری

اسٹاف رپورٹ
اسلام آباد :  میمو گیٹ اسکینڈل سے متعلق سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت جاری ہے جس میں یکم دسمبر کی سماعت کے بعد حکومتی وزراء کی پریس کانفرنس کا سختی سے نوٹس لیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے کیس کی  کارروائی شروع کرتے ہی اٹارنی جنرل سے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ یکم دسمبر کو آپ کے سامنے کارروائی ہوئی اور حکم جاری ہوا۔ پھر حکومتی وزرا کی پریس کانفرنس ہوئی جس میں عدالتی حکم کی تذلیل کی گئی۔ چیف جسٹس نے اس پر اٹارنی جنرل سے سوال کرتے کہا کہ کیا وہ حکومتی مؤقف تھا یا انفرادی رد عمل تھا۔ اگر وہ وزرا کا مؤقف تھا تو ان کے خلاف کیا کارروائی ہوئی۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا نو رکنی بینچ میمو گیٹ کیس کی سماعت کر رہا ہے جس میں مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف اور دیگر درخواست گزاروں نے پٹیشن دائر کررکھی ہیں۔ وفاقی حکومت ، آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا، حسین حقانی، میمو گیٹ کے اہم کردار منصور اعجاز، سیکریٹری خارجہ اور سیکریٹری داخلہ پہلے ہی اپنے جوابات سپریم کورٹ میں داخل کراچکے ہیں۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ 11بجے بابر اعوان کی پریس کانفرنس سے بھی دکھائی جائے گی۔

واضح رہے کہ میڈیا رپورٹس کے ذریعے 10اکتوبر2011 کو منظر عام پر آنے والے امریکی ایڈمرل مائیک مولن کے نام حسین حقانی کے مبینہ میمو کیخلاف سپریم کورٹ میں پہلی درخواست وطن پارٹی کے سربراہ بیرسٹر ظفرالله خان نے 19نومبر کو دائر کی۔ 21 نومبر کو طارق اسد ایڈووکیٹ نے اس موضوع پر دوسری درخواست دائر کی۔ 23 سے 25نومبر تک مسلم لیگ نون کے صدر میاں محمد نواز شریف نے دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ سات مزید درخواستیں عدالت میں جمع کرائیں جن میں صدر آصف علی زرداری کو بھی فریق بنایا گیا۔

آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل پاشا کو پہلے پٹیشنرز نے فریق بنایا تھا۔ چیف جسٹس نے 29 نومبر کو میمو اسکینڈل کی سماعت کیلئے نو رکنی بنچ تشکیل دے کر ابتدائی سماعت کی تاریخ یکم دسمبر مقرر کی۔ پہلی پیشی پر نواز شریف نے خود اپنی درخواست کے حق میں دلائل دیے۔

عدالت نے صدر اور آرمی چیف سمیت تمام فریقین سے پندرہ دن میں جواب طلب کیا جب کہ شواہد جمع کرنے کیلئے سابق ڈی جی ایف آئی اے طارق کھوسہ پر مشتمل کمیشن تشکیل دیا۔ جنہوں نے اگلے ہی روز دو دسمبر کو یہ ذمہ داری نبھانے سے معزرت کرلی۔

امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر اور مبینہ میمو کے مرکزی کردار حسین حقانی نے 8 دسمبر کو عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ کی وساطت سے جواب داخل کرایا۔ اسی روز سپریم کورٹ نے طارق کھوسہ کے متبادل کا معاملہ طے کرنے کیلئے 19 دسمبر کو اس کیس کی پیشی مقرر کردی۔

 14 دسمبر کو مبینہ میمو کے مرکزی کردار امریکی باشندے منصور اعجاز نے بذریعہ ای میل اپنا جواب سپریم کورٹ کو بھجوایا جبکہ  15 دسمبر کی شام اٹارنی جنرل نے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے علاوہ سیکرٹری خارجہ اور سیکرٹری داخلہ کے جوابات جمع کرائے۔ 16 دسمبر کو منصور اعجاز سے میمو وصول کرنے والے امریکہ کی قومی سلامتی کے سابق مشیر جیمز جونز کا یہ دھماکہ خیز بیان حلفی سامنے آیا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ حسین حقانی ہی نے منصور اعجاز کو میمو لکھنے کو کہا تھا۔

 17 دسمبر کو کینیڈا میں مقیم پاکستانی شفقت سہیل کی درخواست سماعت کیلئے قبول کی گئی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ اس کے فوج میں ملازم رشتہ داروں اور ان کے اہل خانہ کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔  جس پر سپریم کورٹ نے دیگر فریقین کے علاوہ وزیر اعظم کو بھی 19 دسمبر کیلئے نوٹس جاری کردیا۔

جیمز جونز کے جواب میں منصور اعجاز نے 17دسمبر ہی کو جوابی بیان حلفی جمع کروا ديا۔جس میں جیمزجونز کے بیان کے متعدد حصوں کو غلط قرار دیا ہے۔ سماء


وڈیو دیکھنے کیلئے نیچے دیئے گئے ویڈیو کے لنک پر کلک کریں

میں

کی

سے

جاری

کیس

wimbledon

اسکینڈل

Tabool ads will show in this div