پابندی لگائی اور توڑ بھی دی

3

  واہ رے خادم اعلیٰ، خود ہی پابندی لگائی اور خود ہی توڑ بھی دی، وزيراعلیٰ پنجاب شہباز شريف نے 3 سال قبل سرکاری اخراجات ميں کمی کیلئے ايک انقلابی قسم کا نوٹی فکيشن جاری کيا، جس کے مطابق وزراء، ارکان اسمبلی، سرکاری افسران اور تمام ملازمين کے حکومتی اخراجات پر بيرونی دوروں پر پابندی لگادی تاہم اس ميں ايک شق يہ بھی رکھ دی گئی کہ اگر کسی افسر يا عوامی نمائندے کا بيرونی دورہ کرنا بہت ضروری ہوگا تو اس کیلئے متعلقہ شخص اور محکمے کو وزيراعلیٰ ہی کی بنائی گئی بچت کميٹی سے اجازت لينا ہوگی۔

اس نوٹی فکيشن سے پابندی تو لگ گئی ليکن چند دنوں بعد ہی خفيہ طور پر اس کي خلاف ورزی بھی شروع ہوگئی اور پھر يہ سلسلہ مسلسل 3 سال تک جاری رہا اور اس دوران 100 سے زائد افسران نے سرکاری خرچ پر مختلف ممالک کے کروڑوں روپے کے دورے کئے، حکومت تو يہ خلاف ورزی کررہی تھی تو پھر اس راز سے پردہ بھی حکومتی بچت کميٹی کے رکن ایم پی اے وحيد گل نے سماء کو ديے گئے اپنے ايک انٹرويو ميں اٹھايا اور 3 سالوں کے دوران افسران کے ان سرکاری دوروں سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بچت کميٹی سے کبھی کسی افسر يا عوامی نمائندے نے سرکاری دوروں کی اجازت نہيں لی ہے۔

3c

جب معاملہ ميڈيا ميں آنے کے بعد پنجاب اسمبلی کے ايوانوں تک پہنچا تو اپوزيشن کی شديد تنقيد نے محکمہ خزانہ ميں کھلبلی مچا دی اور انہيں فکر لگ گئی کہ آڈٹ کے اعتراض کو کس طرح دور کيا جائے گا تو اس کیلئے محکمے نے ملبہ اسی پر ڈالنے کی تياری کی کہ جس نے يہ پابندی لگائی بھی اور توڑی  بھی، اور وہ کوئی اور نہيں بلکہ خادم اعلیٰ پنجاب شہباز شريف ہيں کيونکہ يہ تمام دورے ان کی مرضی سے کئے گئے اور انہی کی منظوری کے بعد محکمہ خزانہ نے کروڑوں روپے جاری بھی کردیئے۔ بچت کميٹی ميں دوسری شق تھی کہ ضمنی بجٹ يعنی اضافی رقم لينے کی حوصلہ شکنی کی جائے گی اور آئندہ ضمنی گرانٹ کی اجازت صرف وزيراعلیٰ ديں گے ليکن يہاں بھی خادم اعلیٰ نے خود ہی کمال دکھاديا، جب ضمنی بجٹ کم ہونے کی بجائے 200 فيصد بڑھ گيا اور جو ضمنی بجٹ 15-2014ء ميں 42 ارب 95 کروڑ تھا وہ 16-2015ء ميں 150 ارب روپے ہوگيا۔

 اس نوٹی فکيشن کی تيسری اہم بات خود نمائی اور اشتہارات ميں کمی تھی ليکن حکومتی دستاويزات بتاتی ہيں کہ اربوں روپے وزيراعلی پنجاب کی اشتہاری مہم پر لگاديے گئے ہيں۔

نوٹی فکيشن کی چوتھی پابندی نئی گاڑيوں کی خريداری اور سرکاری گھروں کی مرمت پر لگائی گئی ليکن يہ دونوں کام بھی 3 سال تواتر سے پابندی لگانے والے خادم اعلیٰ پنجاب کی ناک کے نيچے ہوتے جارہے ہيں۔

3a

جب بھانڈا پھوٹ گيا تو وزير خزانہ پنجاب ڈاکٹر عائشہ غوث کو ايوان ميں جواب دينے کی ہدايت ملی اور انہوں نے يہ کہہ کر بات ختم کرنا چاہی کہ سرمايہ کاری کیلئے افسران کے دورے ضروری ہيں اور ضمنی بجٹ، گاڑيوں کی خريداری اور اشتہارات بھی ضروری ہيں ليکن وزير صاحبہ نے يہ نہيں بتايا کہ پابندی کے باوجود يہ سب کيسے ہوگيا اور اگر خلاف ورزی کرنی تھی تو پابندی لگائی کيوں؟ اور اب اگر راز فاش ہوگيا ہے تو بچت کميٹی کو ختم ہی کرديں۔

يعنی ايک ہی وقت ميں محض نوٹی فکيشن کے ذريعے بچت کے دعوے بھی کئے جارہے ہيں اور ساتھ ہي، مسلسل اس کی خلاف ورزی سے اربوں روپے لگائے بھی جارہے ہيں۔

PUNJAB

ShahbazSharif

foreign visits

Government Officers

Tabool ads will show in this div