ویمنز کرکٹ ٹیم پر بنی بوجھ کھلاڑی

Pakistan’s Nida Dar, left,  celebrates the wicket of India’s women cricket team captain Mithali Raj during their ICC Women's Twenty20 2016 Cricket World Cup match in New Delhi, India, Saturday, March 19, 2016. (AP Photo/Manish Swarup)
Pakistan’s Nida Dar, left, celebrates the wicket of India’s women cricket team captain Mithali Raj during their ICC Women's Twenty20 2016 Cricket World Cup match in New Delhi, India, Saturday, March 19, 2016. (AP Photo/Manish Swarup)

  2d

ہار جیت کھیل کا حصہ ہوتا ہے، شکست غم زدہ ضرور کرتی ہے لیکن لڑ کر ہارا جائے تو تکلیف کچھ کم ہوجاتی ہے لیکن یہ بات شاید بلکہ یقیناً ہماری ویمنز کرکٹ ٹیم کو نہیں معلوم۔ ہماری ویمنز ٹیم تو اس فارمولے پر عمل پیرا ہے کہ ''ایک کامیابی'' کا اتنا ''ڈھنڈورا پیٹو'' کہ اس کے پیچھے ''درجنوں ناکامیاں'' چھپ جائیں۔ حال ہی میں دورہ انگلینڈ میں ختم ہونیوالی ون ڈے سیریز میں قومی ٹیم کی پرفارمنس ہی کو لے لیں، جہاں ہماری ٹیم ہاری ہی نہیں بلکہ اتنا برا ہاری کہ انسان سنتا جائے شرماتا جائے۔ پہلے میچ میں 7 وکٹوں سے ناکامی تو اگلے دونوں میچز میں دو دو سو سے زائد رنز کی شکستیں مقدر بنیں۔

2 پاکستان ویمنز ٹیم کو نوجوان خون کی ضرورت ہے، کپتان ہو یا منیجر یا پھر تجربہ کار کھلاڑی اب وہ اتنا ''کھیل'' چکی ہیں کہ مزید ''کھیلنا'' لگتا ہے ان کے بس کی بات نہیں۔ ون ڈے کرکٹ میں ان کھلاڑیوں کے اعداد و شمار ان کی کہانی چیخ چیخ کر سُنارہے ہیں لیکن شاید پاکستان کرکٹ بورڈ کا ویمنز ونگ ''ڈیف'' ہے جو یہ پُکار نہیں سن رہا۔ پندر مہینے ہونے کو ہیں پاکستان ویمنز ون ڈے ٹیم کی 30 سالہ کپتان ثناء میر کو ففٹی اسکور کئے ہوئے اور اس دوران وہ 375 رنز دیکر صرف 5 وکٹیں ہی لے سکی ہیں، آخری 2 میچز میں بالترتیب 71 اور 69 رنز کی پٹائی بھی شامل ہے۔ ثناء میر بھی شاہد آفریدی ہی ہیں جو کچھ رنز بنالے تو خود کو بیٹنگ آل راؤنڈر قرار دیتی ہیں کچھ آؤٹ کرلیں تو یکدم بولنگ آل راؤنڈر ہونے کا دعویٰ کرنے لگتی ہیں لیکن اب تو موصوفہ دونوں طرف نہیں چل رہیں۔

2a اکتیس سالہ نين عابدی کو بھی ففٹی اسکور کئے ڈھائی سال ہونے کو ہیں، اس دوران 24 ميچز بھی کھيلے، انہوں نے ويسے پورے کيريئر ميں اب تک 72 ميچز ميں صرف 19.32 کی اوسط سے 1256 رنز ہی بناسکيں جن ميں 7 ففٹيز اور ايک سنچری ہی اسکور کی۔ اتنی ہی عُمر کی ثانيہ خان کا بھی کوئی ثانی نہيں جو بغير پرفارمنس کے ٹيم کے ساتھ ساتھ ہيں، تقريباً 7 سالہ کيريئر ميں 17 ميچز کھيل کر صرف 8 کھلاڑی ہی آؤٹ کرسکيں اور محض 27 رنز بنائے، کيا ان کی يہ پرفارمنس کسی انٹرنيشنل کھلاڑی کے شايان شان ہے؟۔ تيس سال کو چھونے والی ناہيدہ خان کيريئر کے 22 ميچز ميں 158 رنز ہی بناسکي ہيں، ايک وکٹ بھی اس دوران لی ليکن ٹيم کا حصہ ہيں۔

Pakistan’s Nida Dar, left, celebrates the wicket of India’s women cricket team captain Mithali Raj during their ICC Women's Twenty20 2016 Cricket World Cup match in New Delhi, India, Saturday, March 19, 2016. (AP Photo/Manish Swarup) انتیس سالہ ندا ڈار کيريئر کے 54 ميچز کھيل کر اتنے ہی شکار کرچکی ہيں، ان کے بلے سے صرف 591 رنز بنے، يعنی فی ميچ تقريباً 13 رنز، حيرت ہے کہ اس پرفارمنس پر بھی مسلسل ٹيم کا حصہ ہيں۔ يہ تو کھلاڑی ہيں جو ٹيم پر بوجھ ہيں پاکستان ويمنز ٹيم کی منيجر عائشہ اشعر بھی قومی ٹيم کی وہ ''بگ باس'' ہيں، جنہيں ٹيم کی ناکاميوں کا مرکزی کردار کہا جاتا ہے کيونکہ موصوفہ نے قومی ويمنز کرکٹ اور ٹيم کو گھر ٹيم بنا رکھا ہے ان کی مرضی سے ٹيم ميں ''انٹری'' ملتی ہے اور ان کی مرضی سے ہی ''چھٹی'' کئی دہائيوں سے ٹيم کے ساتھ ان کا ناکاميوں کے باوجود رہنا ايک سوال ہے، جس کا جواب کبھی بھی پاکستان ويمنز ونگ نہيں دے سکی، اس شعبے کی سربراہان بدلتی رہيں ليکن موصوفہ کو کوئی نہيں ہلا سکا۔

2c ايسا نہيں جن کھلاڑيوں کا ذکر کيا وہ صرف ناکاميوں کی داستانوں کا ہی حصہ ہيں، کچھ کاميابياں بھی ہيں جو ان کے کريڈيٹ پر ہيں ليکن ''چند کاميابيوں'' کے ڈھنڈورے کے پيچھے ''درجنوں ناکاميوں'' کو نہ چھپايا جائے، تبديلی کا نعرہ بلند کيا جائے ورنہ کہيں ''دير'' بلکہ ''بہت دير'' نہ ہوجائے۔

NIDA DAR

nain abidi

Woman Team

Nahida Khan

Tabool ads will show in this div