حکومتی ارکان اسمبلی نے بولنا شروع کردیا

PMLN, PTI

جمہوريت ميں سياسي جماعتيں عام انتخابات اور پھر منتخب ايوان ملکر سياسي اور جمہوري طرز حکومت کا ذريعہ بنتے ہيں۔ پاکستان ميں آئيڈيل يا مضبوط جمہوريت نہ ہونے کي بہت ساري وجوہات ہيں جن ميں سے ايک بڑي وجہ سياسي جماعتوں ميں جمہوريت کا فقدان ہے۔ يوں تو پارٹي کے ليڈر کي بات پر عمل کرنا ہوتا ہے ليکن جمہوريت ميں پارٹي کے ہر رہنما بلکہ عام کارکن کي رائے کو بھي اہميت دي جاتي ہے مگر يہاں ليڈر سے اختلاف کرنے کا مطلب گمراہي کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔

حق گوئي سے پرہيز کا سارا ملبہ سياسي جماعتوں کے ليڈروں پر ڈالنا بھي زيادتي ہوگي کيونکہ کچھ قصور پيروکاروں اور دوسرے رہنماوں کا بھي ہے کہ وہ خود ہي اتنےخوفزدہ ہوتے ہيں کہ غلط بات کو غلط کہنے کے بجائے چاپلوسي کو بہتر راستہ سمجھتے ہوئے ليڈر کي ہاں ميں ہاں ملاتے ہيں اور اس طرح کا معاملہ ہمارے ملک ميں شايد جماعت اسلامی کےعلاوہ ہر سياسي جماعت ميں ہے ليکن اسکي شدت مسلم ليگ ن ميں دوسري جماعتوں کي نسبت بہت زيادہ ہے۔ مسلم ليگ ن ميں پارٹي قيادت سے انحراف کرنا گناہ سمجھا جاتا ہے اور اگر يہ انحراف پارٹي کے پنجاب کے صدر اور وزيراعلي پنجاب شہباز شريف سے ہو تو کبيرہ گناہ بن جاتا ہے ليکن اب کچھ ارکان اسمبلي نے اس گناہ کا مرتکب ہونا شروع کرديا ہے۔

pmln

پنجاب اسمبلي ميں گزشتہ ايک سال سے مختلف موقوں پر ن ليگ کے ارکان اسمبلي نے اپني ہي حکومت پر شديد تنقيد کي ہے، جن ميں سرفہرست شيخ علاو الدين ہوتے ہيں جو ايوان ميں  کبھي تو مہنگائي، اسپتالوں ميں سہولتوں کے فقدان، امن وامان کي بدتر صورتحال اور کبھي سرکاري محکموں کي کرپشن کو بےنقاب کرتے نظر آتے ہيں۔ شيخ علاوالدين کےساتھ اظہار يکجہتي تو کئي حکومتي ارکان اسمبلي کرتے ہيں ليکن پس پردہ رہ کر اور يہ وہي ارکان ہيں کہ جو پارٹي قيادت سے ناراض رہتے ہيں اور اگر کھل کر مخالفت نہيں کرتے تو کبھي تعريفي کلمات بھي نہيں کہتے ہيں۔ ان ارکان کی تعداد 60 سے 70 ہے اور يہي وہ ارکان اسمبلي ہيں جو ہر وقت سياسي پانسہ پلٹنے کے انتظار ميں رہتے ہيں کہ کس وقت سياسي ماحول بدلے اور وہ بھي پارٹي چھوڑ کر دوسرے کيمپ ميں شامل ہوجائيں۔

پارٹي قيادت سے ناراض رہنے والے ليگي ارکان اسمبلي ميں سے چند نے چپ کا روزہ توڑ کر اب ايوان ميں بولنا شروع کر ديا ہے جسکي مثاليں بجٹ اجلاس کے دوران سننے ميں آرہي ہيں جن ميں سے ايک جميل خان ہيں جو شايد ايوان ميں سال ميں ايک يا دو دفعہ بولتے ہيں ليکن اس مرتبہ انہوں نے اپني بجٹ تقرير کا آغاز ان الفاظ سے کيا" سب کچھ اچھا نہيں ہے، جو يہاں پر ہر وقت بتايا جاتا ہے کہ سب اچھا ہے۔ يہاں تعليم پر بہت بڑھ چڑھ کر دعوے کيے جاتے ہيں ليکن درحقيقت ميرے حلقے ميں ايک سال سے بچيوں کےاسکول ميں پنکھا تک نہيں ہے اور نہ ہي بجلي کا کنکشن۔ کيا يہ دور ہے کہ جس ميں کسي اسکول ميں بجلي نہ ہو اور بچياں گرمي ميں تعليم حاصل کريں۔ ميں لعنت بھيجتا ہوں ايسے سسٹم پر۔ اسکے علاوہ جھنگ سے منتخب ن ليگي رکن خالد غني بھي کچھ اسي طرح کے الفاظ ميں اپني جماعت کي حکومت پر برستے رہے۔

national_assembly2-680x366

جنوبي پنجاب سے تعلق رکھنے والے حکومتي ارکان نے بھي ايوان ميں آواز بلند کرنا شروع کردي ہے اور کئي ارکان نے جنوبي پنجاب کے وسائل لاہور ميں خرچ کرنے پر حکومت کو تنقيد کا نشانہ بنايا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان ناراض ليگي ارکان اسمبلي سے مخالف قوتيں رابطے ميں ہيں اور آئندہ اليکشن ميں ان ارکان کي جانب سے پارٹي کو خيرباد کہنے کے امکانات بھي ہيں۔ اگرچہ ان ناراض ارکان اسمبلي اور انکي تنقيد سے پارٹي قيادت باخبر ہے ليکن وہ اپني روايات اورعادات سے مجبور ہيں اور وہ اسکا سد باب کرنے کا صرف ارادہ کرتے ہيں ليکن عملدرآمد مشکل ہے اور ذرائع کے مطابق پارٹي قيادت انتخابات سے چند ماہ قبل ان ناراض ارکان کي طرف توجہ ديں گے ليکن يہ کوئي نہيں جانتا ہے کہ کب کيا ہوجائے اور کہيں دير نہ ہوجائے۔

PUNJAB ASSEMBLY

govt MNAs

shaikh Allauddin

Tabool ads will show in this div