پاکستان اور ازبکستان کا تجارتی حجم 300 ملین ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق

Jun 24, 2016
PRESIDENT MAMNOON HUSSAIN IN A MEETING WITH PRESIDENT OF UZBEKISTAN ISLAM KARIMOV ON THE SIDELINES OF SHANGHAI COOPERATION ORGANIZATION’S (SCO) SUMMIT IN TASHKENT, UZBEKISTAN ON JUNE 24, 2016.
PRESIDENT MAMNOON HUSSAIN IN A MEETING WITH PRESIDENT OF UZBEKISTAN ISLAM KARIMOV ON THE SIDELINES OF SHANGHAI COOPERATION ORGANIZATION’S (SCO) SUMMIT IN TASHKENT, UZBEKISTAN ON JUNE 24, 2016.
PRESIDENT MAMNOON HUSSAIN IN A MEETING WITH PRESIDENT OF UZBEKISTAN ISLAM KARIMOV ON THE SIDELINES OF SHANGHAI COOPERATION ORGANIZATION’S (SCO) SUMMIT IN TASHKENT, UZBEKISTAN ON JUNE 24, 2016.

تاشقند: صدر مملکت ممنون حسین اور ازبکستان کے صدر اسلام کریموف نے اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ پاکستان، افغانستان اور ازبکستان کے مابین سہ فریقی تجارتی راہداری معاہدہ تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ کا باعث بنے گا جبکہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کا حجم 300 ملین ڈالر تک بڑھایا جائے گا۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے قبل صدر ممنون حسین اور ازبک ہم منصب اسلام کریموف کے درمیان ملاقات ہوئی، مذاکرات میں صدر مملکت کی معاونت مشیر خارجہ سرتاج عزیز، سیکریٹری خارجہ اور اعلیٰ حکام نے کی۔

صدر مملکت نے کہا کہ اقتصادی راہداری منصوبے سے علاقائی تعاون کو فروغ ملے گا، پاکستان اور ازبکستان میں تجارت و توانائی کے بے پناہ مواقع موجود ہیں، جن سے دونوں ممالک کو بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے۔

صدر مملکت کہتے ہیں کہ ہم ازبکستان کا درآمدات اور برآمدات کیلئے پاکستانی بندرگاہوں کو استعمال کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں، دونوں ممالک مشترکہ تاریخ و ثقافت سے جڑے ہوئے ہیں، پاکستان ازبکستان کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، دونوں ممالک کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارت، توانائی، معیشت کے شعبوں میں تعاون کے بے پناہ مواقع موجود ہیں، دونوں ممالک کو جغرافیائی قربت سے فائدہ اٹھانا چاہئے، اس سلسلے میں ازبک فضائی سروس کا پاکستان کیلئے آغاز خوش آئند ہے۔

صدر مملکت کا کہنا ہے کہ پاکستان اور ازبکستان میں تجارت صلاحیت سے کم ہے، جسے مزید بڑھانے کی ضرورت ہے، علاقائی رابطے خطے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے نہایت اہم ہیں، پاکستان بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے، پاکستان بھارت سے تمام تصفیہ طلب مسائل پر بات چیت کیلئے تیار ہے۔

صدر ممنون حسین نے مزید کہا کہ پُرامن اور مستحکم افغانستان، پاکستان اور ازبکستان سمیت پورے خطے کے مفاد میں ہے، پاکستان سمجھتا ہے کہ پُرامن افغانستان کیلئے تمام فریقین کو مذاکرات کے ذریعے حل نکالنا چاہئے، صدر مملکت نے ازبک صدر کا شنگھائی تعاون تنظیم کی مستقل ممبر شپ کے حصول میں پاکستان کی حمایت کا شکریہ ادا کیا اور اسلام کریموف کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی جو انہوں نے قبول کرلی۔

ازبک صدر اسلام کریموف نے کہا کہ خطے کے ممالک باہمی تعاون او ر اتحاد سے انتہاء پسندی، دہشت گردی اور منشیات جیسے مسائل پر آسانی سے قابو پاسکیں گے، اس سلسلے میں پاکستان کا کردار بہت اہم ہے، ہم پاکستان کے ساتھ معیشت، تجارت اور دفاع سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کے خواہشمند ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان کی رکنیت خوش آئند ہے جس سے خطے میں امن و استحکام پیدا ہوگا اور خوشحالی کی منزل قریب آئے گی۔ اے پی پی

MAMNOON HUSSAIN

UZBEKISTAN ISLAM KARIMOV

Tabool ads will show in this div