امجد فرید صابری؛ایک عہدجوگزرگیا

Jun 23, 2016

amjad title

کراچی شہر میں کئی نامور سپوتوں کا جنم ہوا۔فنکار،کھلاڑی،سیاست دان، ادیب،صحافی،قوال، مصور؛ غرض پاکستان کے کئی بڑے نام یہاں پیدا ہوئے۔ امجد صابری کا شمار ملک کے مشہور صابری خاندان کے ہونہار قوالوں میں ہوتاتھا۔ انھوں نے کراچی کے علاقے لیاقت آباد کے قوال محلے میں آنکھ کھولی۔ بچپن سے ہی انھیں اپنے والد غلام فرید صابری اور چچا مقبول احمد صابری کی بھرپور سرپرستی ملی۔

amjad kid

امجدصابری نے فن قوالی کو دوام بخشا۔ اپنے باپ کے نام کو انھیں نے ہمیشہ روشن کیا اور اس ادا سے قوالی کا حق ادا کیا کہ دنیا عش عش کراٹھی۔  ان کی آواز کا اتار چڑھاؤ انھیں ہمیشہ ممتاز رکھتا تھا۔ اسی کی دہائی کے آخر میں امجد صابری فن قوالی کے منظر نامے پرآئے اور دیکھتے ہی دیکھتے چھاگئے۔

امجد صابری کو کئی بار نجی محفلوں میں براہ راست سننے کا اتفاق ہوا۔اپنے شفقت آمیز انداز میں امجد صابری ہر محفل کی جان تھے۔ فن قوالی میں وہ اپنی ذات میں ایک ادارہ رہے ہیں۔امجد صابری کی محافل میں لوگوں کو پھوٹ پھوٹ کرروتے دیکھا گیاہے۔ امجد صابری جب اپنی خوبصورت آوازمیں سماع باندھتے تو لوگ بے اختیار داد دینے پر مجبورہوجاتے۔امجد صابری کئی کئی گھنٹے بلا تکان روز قوالی پڑھنے میں عبور رکھتے تھے۔ امجد صابری کو عالمگیر شہرت ملی۔ انھوں نے 17 ممالک کے دورے کئے اور لاکھوں لوگوں کو اپنا مداح بنایا۔

amjad son

امجد صابری نے 2 شادیاں کی ہوئی تھیں اور ان کے 5 بچے ہیں۔امجد صابری کی والدہ بھی بقیدحیات ہیں اور اپنے جوان بیٹے کی موت پر غم سے نڈھال ہیں۔ امجد صابری کی شہادت سے نہ صرف ان کا خاندان بےسہارا ہوگیا بلکہ فن قوالی بھی ایک ممتاز شہکار فنکار سے محروم ہوگیا۔ امجد صابری کی شہادت کی خبر منٹوں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ کراچی میں موجود ان کا ہرایک چاہنے والا فوری طورپر لیاقت آباد میں ان کے گھر پہنچ گیا۔ قوال محلہ چند گھنٹوں میں ملک کی اہم ترین جگہ بن گئی۔ سیاسی رہنماؤں، فنکاروں،کھلاڑیوں،سماجی شخصیات اور ان کے چاہنے والوں کی بڑی تعداد وہاں موجود تھی ۔ اس موقع پر وہاں موجود ہر آنکھ اشک بار تھی۔ لوگوں ایک دوسرے سے گلے مل کر پھوٹ پھوٹ کر رورہے تھے۔ کراچی میں کسی کی موت کا ایسا غم نہیں منایا گیا جیسے امجد صابری کی موت پر ہوا۔

amjad janaza

امجد صابری چلے گئے مگر اپنے پیچھے فن کی ایک ایسی میراس چھوڑگئے جسے پانا ہرکسی کے بس کی بات نہیں۔ ان کی موت پر کراچی سوگوار ہے،ہر آنکھ اشکبار ہے،ہر دل خون کے آنسو رورہا ہے،ہر کوئی پوچھ رہا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی مداح سرائی کرنے والے کا قصور کیا تھا۔ کیا ملا ہوگا امجد صابری کے قاتلوں کو؟ان کے ہاتھ نہیں کانپے ہونگے؟ان کے دل میں رسول کی محبت نہیں جاگی ہوگی ؟ کیا ان قاتلوں کا کوئی مذہب نہیں تھا؟ کیا انھوں انداز تھا کہ وہ بچوں سے ان کا باپ،بیویوں سے ان کا شوہر،بھائی بہنوں سے  بھائی چھین رہے ہیں۔ انھوں پتہ بھی نہیں ہوگا کہ اس شخص کی موت پورے شہر کو رلاکررکھ دے گی۔

amjad sabri

پاکستان کی پہچان کو خون میں نہلانے والے سے روز محشر حساب ہوگا۔ امجد صابری ایک عہد تھا ،جوگزرگیا مگر اس کا فن ہمیشہ زندہ رہے گا۔

KARACHI OPERATION

انٹرٹینمنٹ

sufi music

Qawali

Qawals of Pakistan

Tabool ads will show in this div