روشن مستقبل کی سیڑھی

 

bike

تحریر: شہبازاحمد

فاطمہ آج بہت خوش ہے۔ صبح اٹھ کر اس نے جلدی جلدی اسکول کی تیاری کی کیونکہ آج کا دن اس کے لئے بہت خاص ہے۔ آج پہلی دفعہ وہ اپنی سائیکل پر اسکول جائے گی اور واپسی پر بھی اسے کئی میل کا سفر پیدل طے نہیں کرنا پڑے گا۔

یہ سائیکل اسے جرمن حکومت کی امداد سے ایک غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے دی گئی ہے تاکہ وہ باقاعدگی اورآسانی سےاسکول جا سکے اور اس کی تعلیم میں خلل پیدا نہ ہو۔اب فاطمہ روز اس سائیکل پر اسکول آتی جاتی ہے۔ سائیکل نے نہ صرف اسے اعتماد دیا ہے بلکہ گاؤں کی گلیوں، کھیتوں اور سٹرکوں پر سائیکل چلا کر اسکول پہنچنے والی فاطمہ میں آگے بڑھنے کی امید بھی پیدا کر دی ہے۔

فاطمہ بارہ سال کی ہے اور عارف والا کے ایک پسماندہ گاؤں میں رہتی ہے۔ اس کی والدہ انتقال کر چکی ہیں اور والد فالج کے مرض کے باعث چلنے پھرنے سے قاصر ہیں۔ غربت زدہ اس گھرانے کو تعلیم کی اہمیت کا احساس ہے اسی لئے انہوں نے مشکلات کے باوجود فاطمہ کو اسکول میں داخل کرایا۔ فاطمہ کا اسکول گھر سے پانچ چھے کلومیٹر دور ہے۔ ماں کی وفات اور والد کی بیماری کے باعث اتنا لمبا سفر پیدل طے کر کے اسکول جانا اس کے لئے بہت مشکل تھا۔ لیکن فاطمہ کی یہ مشکل اسے ملنے والی بائیسکل نے حل کر دی ہے۔

فاطمہ کے علاوہ اس کے اسکول کی کئی اور لڑکیوں کو بھی سائیکلیں دی گئی ہیں۔ رابعہ پہلے رکشے میں اسکول آتی جاتی تھی، جس کے لئے اس کو ہر ماہ پانچ سو روپے کرایہ دینا پڑتا تھا۔ لیکن اب سائیکل ملنے سے اس کے پیسوں کی بچت ہو گی اور وہ اسکول بھی خوشی خوشی جاتی ہے۔ رومیسہ کے والد کا اسے موٹرسائیکل پر اسکول چھوڑنے کے چکر میں کام کا حرج ہوتا تھا لیکن اب اسے بیٹی کو اسکول چھوڑنے اور واپس گھر لانے کی فکر نہیں ۔

bike 1

عارف والا کے اس گاؤں سے سرکاری اسکول بہت دور ہے اور دوسرے کئی گاؤں کی لڑکیاں اسی اسکول میں سخت گرمی میں پیدل سفر طے کر کے آتی ہیں۔ این جی او نے سائیکل منصوبے سے متعلق اسکول پرنسپل کو پہلے اعتماد میں لیا ۔ انہیں خدشہ تھا کہ پسماندہ گاؤں کے لوگ اپنی بچیوں کو سائیکل چلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اسکول پرنسپل نے لڑکیوں کے والدین سے بات کی اور انہیں یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ لڑکیوں کے سائیکل چلانے کی بات پر سخت ردعمل دینے کی بجائے والدین بہت خوش ہوئے۔ والدین کا کہنا تھا کہ انہیں بھلا کیوں اعتراض ہو گا ، اب تو لڑکیاں موٹرسائیکل چلا رہی ہیں تو اگر ان کی بیٹی سائیکل چلا لے گی تو اس میں برائی کیا ہے۔ این جی او کی جانب سے بچیوں میں 210 سائیکلیں تقسیم کی گئی ہیں جو والدین کی مرضی سے ہی دی جا رہی ہیں۔

bike2

اس حوالے سے علاقے کے امام مسجد نے بھی اعلی مثال قائم کی ہے۔  ان کی اپنی بیٹی بھی اب سائیکل پر ہی اسکول جاتی ہے۔ اہل علاقہ کو خدشہ تھا کہ کہیں امام مسجد صاحب کوئی فتویٰ جاری نہ کر دیں لیکن زمانہ شناس امام صاحب نے اس اقدام کی تائید کی۔ ان کا موقف تھا کہ ایک لڑکی نہایت گرمی میں روز پیدل چل کر اسکول پہنچتی ہے، اگر وہ سائیکل چلا کر جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ۔

اسکول پرنسپل بھی خوش ہیں کہ اب لڑکیاں چھٹیاں کرتی ہیں نہ لیٹ ہوتی ہیں ۔ لڑکیوں کو دی جانے والی سائیکل صرف ذریعہٴ آمد ورفت نہیں، یہ انہیں روشن مستقبل کی طرف لے جانے کی سیٹرھی ہے۔ اصل میں جدید دور میں گاؤں کے لوگوں کی سوچ بھی بدلی ہے۔۔ انہیں احساس ہو گیا ہے کہ غربت سے نکلنے کا واحد راستہ تعلیم ہی ہے،، روشن مستقبل کے لئے انہیں اپنی بیٹیوں کو پڑھانا ہو گا تاکہ وہ ان سے بہتر زندگی گزار سکیں۔

women empowerment

girls on bicycle

Tabool ads will show in this div