شعیہ تنظیموں کا 10گھنٹے بعد دھرنا ختم،مقدمہ درج، نماز جنازہ ادا کردی گئی

اسٹاف رپورٹ
کراچی : اتوار کی دوپہر سے پاسبان جعفريہ کے مرکزی رہنما کے قتل پر لوگ سراپا احتجاج بنے رہے۔


مطالبات کی منظوری پر مظاہرين نے گورنر ہاؤس کے باہر دس گھنٹے سے جاری دھرنا ختم کرديا۔ نماز جنازہ کے بعد شرکاء تدفين کے ليے وادی حسين روانہ ہو گئے۔
 
پاسبان جعفريہ کے مرکزی رہنما کے قتل پر گورنر ہاؤس کے سامنے شيعہ تنظيموں کا احتجاجی دھرنا دس گھنٹے تک جاری رہا۔


دھرنے ميں شريک خواتین اور بچوں سميت بڑی تعداد میں لوگ پر امن طور پر گھنٹوں شہر کے قلب ميں بيٹھے رہے۔ مطالبات کی منظوری پر گورنر ہاؤس کے سامنے ہی سيد عسکری رضا کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔
 
نماز جنازہ کے بعد مظاہرين تدفين کیلئے ميت کے ساتھ سپر ہائی وے پر وادی حسين قبرستان روانہ ہوگئے۔ پاسبان جعفريہ کے مرکزی رہنما کو ہفتہ کی شام گلشن اقبال ميں موٹر سائيکل سواروں نے دہشت گردی کا نشانہ بنايا تھا۔ 

کار پر فائرنگ سے عسکری رضا جاں بحق اور ان کے ساتھی زخمی ہوئے۔ واقعہ کے بعد کراچی ميں کشيدگی پھيل گئی اور ہفتہ کی رات ہی سے مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگيا۔


اتوار کي دوپہر نماز جنازہ کا اعلان کيا گيا ليکن مقدمہ درج نہ ہونے پر سوگواروں نے گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنے کا اعلان کر ديا۔


شاہراہ پاکستان پر احتجاج اور دھرنے کے بعد مظاہرين نے ميت کے ساتھ  گورنر ہاؤس کی طرف مارچ کیا۔ انچولی سے گورنر ہاؤس تک تقريبا تيرہ کلو ميٹر کا فاصلہ انتہائی پر امن طريقے سے طے کيا اور پھر دس گھنٹے تک دھرنا ديا۔

مظاہرين کی بڑھتی ہوئی تعداد کو ديکھتے ہوئے گورنر ہاؤس ميں چھ رکنی ٹيم کو مذاکرات کے ليے بلايا گيا۔ بات چيت کے بعد گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور سينيٹر فيصل رضا عابدی نے قاتلوں کو گرفتار کرنے کی يقين کرائی۔
 
گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ قتل کی جوڈیشل انکوائری بھی کرائی جائے گی۔ چوہدری اسلم اور اورنگزیب فاروقی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ بھی تسلیم کرلیاگيا ہے۔


مقدمہ گلشن اقبال تھانہ میں ڈاکٹر ثمرعباس اور عسکری رضا کے بھائی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ 


مظاہرين نے ايف آئی آر کی کاپي ديکھنے کے بعد طويل ترين دھرنا صبح چھ بجے ختم  کرديا۔ سماء

کا

بعد

لاہور

lack

ranking

bolt

Tabool ads will show in this div