بھٹوریفرنس کیس،احمدقصوری کوعدالتی معاونین کی جانبداری پراعتراض

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ
اسلام آباد : بھٹو قتل کیس کے مدعی احمد رضا قصوری نے بھٹو ریفرنس میں پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے وکلاء کو عدالتی معاون بنانے پر اعتراض کیا ہے۔


انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ عدالتی معاون کو غیر جانبدار ہونا چاہئے۔ سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی ہے۔

چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے گیارہ رکنی بینچ نے بھٹو ریفرنس کیس کی سماعت کی۔


احمد رضا قصوری نے موقف اختیار کیا کہ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وکلاء غیر جانبدار نہیں ہو سکتے۔ 27 دسمبر کو اعتزاز احسن نے اپنی تقریر میں بھٹو کو شہدائے کربلا سے ملا دیا۔ وہ عدالتی معاون کی حیثیت سے انصاف نہیں کر سکیں گے۔

جس پر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ وہ پیپلزپارٹی کے کارکن اور وفادار ہیں اور یہ فیصلہ عدالت کرے گی کہ ان کی معاونت چاہیے یا نہیں۔


اللہ توفیق دے کہ وہ ذاتی رائے ایک طرف رکھ کر عدالت کی معاونت کر سکیں۔ جس پر جسٹس عثمانی نے ریمارکس دیئے کہ اگروہ غیر جذباتی انداز میں عدالت کی معاونت کر سکیں تو کوئی مشکل نہیں ہوگی۔

چیف جسٹس افتخار چوہدری نے بابر اعوان سے کہا کہ مان لیں کہ بھٹو کیس میں سارا غلط ہوا لیکن ری وزٹ کے لیے کس فیصلہ کو مثال بنائیں۔


جس پر بابر اعوان نے بھارتی سپریم کورٹ کے روپا اشوک کیس کا حوالہ دیا۔ بابر اعوان نے اپنے دلائل میں کہا کہ آصف زرداری کیس میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ جانبدار جج مقدمہ کی سماعت نہیں کر سکتے۔


جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایسے کیس کا حوالہ دیں جن میں نظرثانی کے بعد ججوں کی جانبداری کا معاملہ اٹھایا گیا ہو۔ میڈیا سے گفتگو میں احمد رضا قصوری کا کہنا تھا کہ انہیں کئی عدالتی معاونین کی جانبداری پر اعتراض ہے۔

جسٹس انوارالحق کے بیٹے نے بھی بھٹو ریفرنس کیس پر اعتراض اٹھا دیئے ہیں اور سپریم کورٹ کو تحریری خط لکھ دیا ہے۔


اس سے پہلے عدالت نے جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کی جانب سے کارروائی سے علیحدگی کی درخواست منظور کرلی۔ انہوں نے احمد رضا قصوری کی جانب سے اعتراض کے بعد عدالت کی معاونت کرنے سے معذرت کرلی تھی۔


احمد رضا قصوری نے موقف اختیار کیا تھا کہ طارق محمود کی وابستگی پیپلزپارٹی کے ساتھ ہے اس لئے وہ جانبدار نہیں رہ سکتے۔ سماء

کی

katrina

Tabool ads will show in this div