میمو کیس کمیشن اجلاس، حسین حقانی اور ڈی جی آئی ایس آئی پیش نہ ہوسکے

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ
اسلام آباد : میمو کمیشن کے پہلے اجلاس میں حسين حقانی اور ڈی جی آئی ايس آئی کی جانب سے کوئی پيش نہيں ہوا۔ کمیشن نے امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر اور ڈی جی آئی ایس آئی کو پیر کی صبح نو بجے پیش ہونے کا حکم جاری کردیا۔

چیف جسٹس بلوچستان قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں میمو کمیشن کا اسلام آباد میں اجلاس شروع ہوا تو کمیشن کے باہر حسین حقانی کے لئے آوازیں لگائی گئیں۔


ڈی جی آئی ایس آئی اور امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر نہ تو خود کمیشن کے روبرو حاضر ہوئے اور نہ ہی ان کی جانب سے کوئی پیش ہوا۔

کمیشن کے سیکریٹری جواد حسن نے آگاہ کیا کہ حسین حقانی کو سیکرٹری داخلہ کے ذریعے کمیشن میں پیش ہونے کی ہدایت کر دی گئی تھی، وہ کیوں حاضر نہیں ہوئے۔ انہیں علم نہیں۔ 


کمیشن کے استفسار پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق حسین حقانی اسلام آباد میں موجود ہیں جس پر کمیشن نے ہدایت کی کہ اگر انہیں وکيل کے سلسلے ميں کوئی دشواری ہو تو مدد فراہم کی جائے۔

سیکریٹری خارجہ، اٹارنی جنرل اور سیکریٹری کیبینٹ ڈویژن کمیشن کے روبرو حاضر ہوئے جن سے مختلف سوالات کئے گئے۔ سیکریٹری خارجہ سلمان بشیر نے کمیشن کے استفسار پر بتایا کہ حسین حقانی کے خلاف کوئی محکمانہ کارروائی نہیں کی گئی۔

حسین حقانی اور منصور اعجاز کے درمیان ملاقاتوں کا کوئی ریکارڈ دفتر خارجہ کے پاس نہیں۔ کمیشن نے ڈی جی آئی ایس آئی اور سمیت تمام فریقین کو نو جنوری کو حاضر ہونے کے نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا گیا۔


اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ کمیشن نے منصور اعجاز اور جنرل جیمز جونز کو بھی بلایا ہے۔

ادھر میمو تحقیقاتی کمیشن کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے جس میں درخواست گزار شاہد اورکزئی نے موقف اختیار کیا ہے کہ میمو تحقیقاتی کمیشن آئین سے مطابقت نہیں رکھتا۔


کمیشن پر کیے جانے والے اخراجات کی وضاحت کی جائے۔ ججز صدر سے رخصت لیے بغیر کمیشن اجلاس میں شرکت کے مجاز نہیں ہیں۔ سماء

اور

جی

آئی

ایس

ڈی

child marriage

کیس

offers

paypal

banned

sharapova

Tabool ads will show in this div