کراچی کی تاریخی عمارتیں اوران سےجڑی داستانیں

  db33 تحریر : صفاء سرور خان ارض پاکستان کا جدید شہر کراچی اپنی ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے، بڑی بڑی پرشکوہ عمارتوں کے درمیان کسی کہن سالہ بزرگ کی مانند کئی قدیم عمارتیں وقت کے نشیب و فرازکو سہتی فخر سے کھڑیں ہیں تو کہیں ختم ہوتی کہانی کی مانند بھولی بسری داستان بن جانے پر تلی ہیں، اب ذکر ہے کراچی کی چند قدیم عمارتوں کا جو اپنے ساتھ منفرد سی داستانیں بھی لیئے ہوئے ہیں، داستان یوں کہ وقت گزرنے کے بعد ہر کہانی کو داستان بنادیتا ہے سو ان عمارتوں کی کہانی اب داستان ہو چکی ہے، موسمی تغیر اور سماجی سیاسی حالات کا سامنے کرتی ہی عمارتیں زیادہ تر انگریزوں کے زمانے میں تعمیر کی گئیں، جن میں سب سے پہلے ذکر ہے۔ (ڈینسو ہال) Karachi-Photos-The-Eduljee-Dinshaw-Charitable-Dispensary-in-Saddar-Karachi-was-commissioned-in-1882-Karachi-Pictures 1882میں تعمیر کردہ عمارت ڈینسو حال انگریز سرکار کی لائبریری تھی، جوبندرگاہ کراچی میں تعینات افسران کیلئے بنائی گئی تھی، یہ عمارت پارسی شخصیت اور سماجی راہنما ایڈلوجی ڈینسو کے نام پر بنائی گئی، برطانوی حکومت نے ان کو افغان جنگ میں مالی معاونت فراہم کرنے پر یہ اعزاز عطا کیا، بعد ازاں ان کے بیٹے کے نام پر اس وقت اور اور شہر کراچی کی موجودہ انجینیرنگ یونیورسٹی کا نام بھی رکھا گیا، این ای ڈی یونیورسٹی نادر شاہ ایڈلیوجی ڈینس یونیورسٹی جو انہوں نے انجینیرننگ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد شہر میں دیگر طالب علموں کے لیئے تعمیر کروائی تھی۔ (میری ویدر ٹاور) 6a00d8341c562c53ef0168e8e024c5970c-320wi قیام پاکستان کی ابتداء میں سمندری سفر سے واپسی پر جب آپ کراچی کی حدود میں داخل ہوتے تھے تو سب سے پہلے جو عمارت آپ کا استقبال کرتی وہ یہ ہی میری ویدر ٹاور تھا۔یہ ٹاور سر ولیم لوکیر میری ویدر کی یاد میں تعمیر کیا گیا، جو کہ 1868سے 1877تک سندھ کے کمشنر رہے تھے اور یہ ٹاور 1886میں سر ولیم کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے تعمیر کیا گیا، اس کی بلندی 102فٹ ہے، جب کہ رقبہ 44مربعہ فٹ پر مشتمل ہے، اس کے چاروں جانب گھڑیاں نصب ہیں، جب کہ ا س پر بنا ستارہ ڈیوڈ اسٹا ریا ستارہ داؤدی یہودی مذہب کی علامت ہے۔ .(مہٹہ پیلس) Mohatta-Palace-Karachi سیورتن چندرا مہتہ نے 1927میں یہ محل گرمیاں گزارنے کے لیئے شہر کراچی میں بنوایا تھا، اس عمارت کو قاس وقت کے مشہور معمار آغا احمد حسن نے ڈیزائن کیا، اس کے اندر ایک میل لمبی سرنگ ہے جو مندر سے جاکر ملتی ہے، یہ عمارت اپنی پرسرار کہانیوں کی وجہ سے بھی مشہور ہے، قیام پاکستان کے بعد 1960 میں محترمہ فاطمہ جناح کو یہ رہائیش کے لیئے دی گئی، پھر اس کے بعد ان کی ہمشیرہ شیریں جناح یہاں رہیں، ان کے انتقال کے بعد اس کو میوزیم بنادیا گیا ہے۔ (سندھ مدرسۃ اسلام) SMTI 1890میں یہ درسگاہ مسلمان سندھ کی عظیم شخصیت حسن علی آفندی نے بنائی۔جسکا مقصد ہندوستان کے مسلمان بچوں کو مذہبی اصولوں کے ساتھ جدید تعلیم دینا تھا، اس ادارے سے قائد آعظم محمد علی جناح جیسے رہنماؤں نے تعلیم حاصل کی، اس خوبصورت عمارت کوخاں بہادر ولی محمد کی مدد سے سر جیمز اسٹریچن نے ڈیزئن کیا ہے، 1885بولٹن مارکیٹ میں واقع عمارت حسن علی آفندی نے کرائے پر حاصل کر کے اس مدرسے کی بنیاد ڈالی، پھر مدرسے کی تکمیل کے بعد یہاں تعلیمی سرگرمیاں شروع کی گیئں۔ (فلیگ ہاؤس) 6993273983_4a14115135_c اس عمارت کو قائد آعظم محمد علی جناح نے 1947میں رہائش کے لیئے سہراب کڑک سے خریدا تھا، اسے معمار انگریز فوجی افسر مونکرف ڈیزائن کیا تھا، ایک اندازے کے مطابق یہ عمارت 1865میں بنائی گئی، ابتدا میں اس کے مکین جرنک ڈگلس گریسی تھے۔ .(ڈی جے سائنس کالج) 9ed80ba910507070f6ee2ee9e85ec5fb دیوان دایا رام جیٹھ مال کالج 1882میں قائم ہوا، یہ جدید تعلیمی ادارہ کراچی کی عوام کے لیئے انگریز سرکار کا تحفہ تھا اور اس کے ابتدائی اساتذہ بھی انگریز فوجی افسران ہی تھے، برصغیر کی کئی مشہور شخصیات نے یہاں سے تعلیم حاصل کی ہے،جس میں ڈاکٹر عبدالقدیر کا نام سے سے نمایاں ہے۔ (جہانگیر کوٹھاری)tumblr_m7dgicHwjH1rb5xfzo1_12801 اس عمارت کو شہر کی خوبصورتی بڑھانے کے لیئے جہانگیر ایچ کوٹھاری نے تعمیر کروایا تھا، اس کی بنیاد 1919میں ڈالی گئی، جب کہ اس کا افتتاح 1921میں سر جارج اور ان کی اہلیہ نے کیا تھا۔ سماء

ENGLAND

CITY OF LIGHTS

architecture

Old Building

Colonial

Tabool ads will show in this div